این اے 133ضمنی الیکشن، لیگی اور پی پی کارکنان نے ایک دوسرے پر تھپڑوں کی بارش کر دی، متعدد کارکنان زخمی

ین اے 133کے ضمنی انتخاب کے دوران مریم کالونی بلاک ون میں جیالے اور متوالے آمنے سامنے آگئے،کارکنوں نے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزام عائد کئے جبکہ جھگڑے میں دونوں پارٹیوں کے کچھ کارکن زخمی ہوگئے، ذرائع

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری اتوار 5 دسمبر 2021 20:26

این اے 133ضمنی الیکشن، لیگی اور پی پی کارکنان نے ایک دوسرے پر تھپڑوں کی بارش کر دی، متعدد کارکنان زخمی
لاہور(اُردو پوائنٹ، اخبار تازہ ترین، 5دسمبر 2021) این اے 133ضمنی الیکشن، لیگی اور پی پی کارکنان نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئےتھپڑوں کی بارش کر دی، متعدد کارکنان زخمی حالت میں ہسپتال منتقل۔ تفصیلات کے مطابق این اے 133کے ضمنی انتخاب کے دوران مریم کالونی بلاک ون میں جیالے اور متوالے آمنے سامنے آگئے،کارکنوں نے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزام عائد کئے جبکہ جھگڑے میں دونوں پارٹیوں کے کچھ کارکن زخمی ہوگئے۔

لاہور کے حلقہ این اے 133کے ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ(ن)کے کارکنوں میں جھگڑا ہوگیا جبکہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے خلاف الیکشن کمیشن کو درخواست دے دی ہے۔یوسی 232 گورنمنٹ لال ہائی سکول 15 بی ون ٹائون شپ پیپلز پارٹی کے امیدوار اسلم گل کی آمد پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے کارکنان آمنے سامنے آئے ، کارکنوں کے درمیان شدید نعرے بازی ہوئی جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے گئے،حالات کشیدہ ہونے پر پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے کارکنوں کو نعرے بازی سے روک دیا اورپولیس نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے مذید اہلکار تعینات کر دیئے ۔

(جاری ہے)

دوسری جانب این اے 133ضمنی انتخابا ت کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کا سلسلہ جاری ہے۔ 254 میں سے 136پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج سامنے آ گئے ہیں۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کی شائستہ پرویز نے پیپلز پارٹی کے امیدوار اسلم گل پر کئی ہزار ووٹوں سے واضح برتری حاصل کر لی ہے۔ غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کی شائستہ پرویز نے 24564ووٹ لے کر پی پی امیدوارپر برتری حاصل کر لی ہے۔

جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار اسلم گل 14446 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ بتاتے چلیں کہ مسلم لیگ ن کے رہنماء پرویز ملک کے انتقال کی وجہ سے خالی والے حلقہ این اے 133 لاہور کی اس نشست پر ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی، حلقے میں 4 لاکھ 40 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر نے کے اہل تھے ، جن میں مرد ووٹرز 2 لاکھ 33 ہزار 558 اورخواتین 2 لاکھ 6 ہزار 927 ہیں ، پولنگ کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے این اے 133 میں 254 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ، جن میں اے کیٹیگری کے 22، بی کیٹیگری کے 198 اور سی کیٹیگری کے 34 پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں ، ان میں سے 200 پولنگ اسٹیشن ایسے ہیں جہاں مرد اور خواتین علیحدہ علیحدہ ووٹ کاسٹ کریں گے جب کہ 54 مخلوط پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ۔

حلقے میں مجموعی طور پر 13 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے ، جس میں آزاد امیدواروں کی تعداد زیادہ ہے تاہم اس نشست کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے ، یہاں پرویز ملک کی اہلیہ شائستہ پرویز ن لیگ اور اسلم گل پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں جب کہ ضمنی انتخابات کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے ہیں جس کے لیے مجموعی طور پر 2 ہزار سے زائد افسران و اہل کار ڈیوٹی دے رہے ہیں ، ایس ایس پی آپریشنز کی نگرانی میں 6 ایس پیز اور 14 ایس ڈی پی اوز فرائض انجام دے رہے ہیں ، اس کے علاوہ 44 ایس ایچ اوز، 52 ڈولفن و پیرو اور 7 کوئیک ریسپانس ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments