نجی کالج کے لڑکوں کو لڑکی بن کر ڈانس کرنا مہنگا پڑ گیا

ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کالج میں تقریب کے دوران غیر اخلاقی سرگرمیوں کا نوٹس لے لیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ 8 دسمبر 2021 12:32

نجی کالج کے لڑکوں کو لڑکی بن کر ڈانس کرنا مہنگا پڑ گیا
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 دسمبر2021ء) نجی کالج کے لڑکوں کو لڑکی بن کر ڈانس کرنا مہنگا پڑ گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے حاصل پور کے نجی کالج میں تقریب کے دوران غیر اخلاقی سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر بہاولپور ڈویژن اور سیکرٹری تعلیم سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور تعلیمی ادارے میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے - وزیر اعلی عثمان بزدار کے نوٹس پر ڈپٹی کمشنر بہاولپور نے نجی تعلیمی ادارے کو سیل کر دیا ہے - وزیر اعلی عثمان بزدار نے کہا کہ نجی تعلیمی ادارے میں بغیر اجازت تقریب منعقد کرنے پر قانون کے تحت کارروائی کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائی-انہوں نے کہا کہ کالج میں مخلوط تقریب کے دوران غیر اخلاقی سرگرمیاں ناقابل برداشت ہیں-قبل ازیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طالب علم کی وائرل ہونے والی ڈانس کی ویڈیو کا نوٹس لے لیا۔

(جاری ہے)

انتظامیہ نے طالبعلم کے خلاف معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوا دیا۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک طالب علم کو بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کے اندر ڈانس کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین کی جانب سے شدید رد عمل دیکھنے میں آیا جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی اس کا نوٹس لے لیا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈانس سیمینار کا حصہ نہیں تھا اور اجازت کے بغیر ڈانس کیا گیا جس کی ویڈیو وائرل ہوئی۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈانس کرنے والے طالب علم کے خلاف ایکشن لینے کے لیے معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوایا تھا۔واضح رہے کہ طالب علم کی یہ ڈانس ویڈیو چند روز قبل وائرل ہوئی تھی جس پر یونیورسٹی انتظامیہ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ویڈیو کے مطابق دو روز قبل سیمینار سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ' ریسرچ ان سپیشل ایجوکیشن‘ کے عنوان سے منعقد ہوا تھا۔یہ سمینار 22 سے 23 نومبر تک جاری رہا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments