نیب نے شہباز شریف کے داماد کی ملکیت ثابت ہونیوالی پراپرٹی سے 2کروڑ 49لاکھ سے زائد کی رقم ریکور کر لی

علی عمران یوسف کی ملکیت میں پانچ کمپنیوں میں شیئرز اور دو پلازوں میں اثاثے بھی سامنے آئے ہیں‘ ذرائع

منگل 18 جنوری 2022 19:42

نیب نے شہباز شریف کے داماد کی ملکیت ثابت ہونیوالی پراپرٹی سے 2کروڑ 49لاکھ سے زائد کی رقم ریکور کر لی
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 جنوری2022ء) مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کے داماد علی عمران یوسف سے قومی احتساب بیورو کی جانب سے ریکوری کا سلسلہ جاری ہے ،نیب نے علی عمران یوسف کی ملکیت ثابت ہونے والی پراپرٹی سے 2 کروڑ 49 لاکھ روپے سے زائد کی رقم ریکور کر لی،علی عمران یوسف کی ملکیت میں پانچ کمپنیوں میں شیئرز اور دو پلازوں میں اثاثے بھی سامنے آئے ہیں،احتساب عدالت نے علی عمران یوسف کی جانب سے نیب کو ریکوری کرنے سے روکنے کی درخواست کو مسترد کردیاگیا۔

ذرائع کے مطابق پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کے سابق چیف فنانشل آفیسر اکرام نوید کے خلاف نیب کی تحقیقات میں ہونے والے انکشافات نے تحقیقات کو اس وقت نیا رخ دیا جب متعدد حقائق منظر عام پر آنا شروع ہوئے۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق نیب لاہور نے گریڈ 20 کے آفیسر اکرام نوید جو ماضی میں ایرا کے ساتھ بھی منسلک رہے کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری کا آغاز کیا جس میں ملزم پر پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی، ایرا اور پی ایچ اے کے سرکاری اکائونٹس سے لگ بھگ 48 کروڑ کی کرپشن اور غبن کا الزام تھا ۔

مبینہ طو رپر کرپشن کے پیسے سے ملزم نے مری، اسلام آباد اور لاہور کے علاقہ جات میں خطیر مالیت کی پراپرٹیاں بھی بنا رکھی تھیں ۔ذرائع کے مطابق تحقیقات میں نیا رخ اس وقت شامل ہوا جب ملزم کی جانب سے سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے داماد عمران علی یوسف کے اکائونٹس میں 13 کروڑ کی منتقلی کے شواہد ظاہر ہوئے۔اگرچہ ملزم اکرام نوید نے اپنے خلاف جاری تحقیقات میں نیب کو کرپشن کی رقم سے بنائے گئے تمام اثاثہ جات بحق سرکار واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے نیب لاہور سے پلی بارگین کی درخواست دی جسے نومبر 2018 میں لاہور کی احتساب عدالت نے منظور کرلیا اور اس طرح دیگر شریک ملزمان کو بھی مقدمہ میں نامزد کر دیا گیا۔

بعد ازاں اس ضمن میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے نیب نے اکرام نوید کے شریک ملزم عمران علی یوسف اور رابعہ عمران کیخلاف مارچ 2021 میں ایک ضمنی ریفرنس احتساب عدالت میں داخل کیا جس میں دونوں سے 23 کروڑ 34 لاکھ مالیت کی رقم قابل وصول ظاہر کی گئی۔اس دوران ملزم عمران علی یوسف نیب تحقیقات اور احتساب عدالت میں عدم تعاون کرتے ہوئے ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جسے بعدازاں نیب کی درخواست پر احتساب عدالت لاہور نے مفرور ڈکلیئر کردیا۔

نیب کی جانب سے اس کیس میں مزید پیشرفت کرتے ہوئے ملزم عمران علی یوسف کے خلاف نہ صرف ریڈ نوٹس کا اجرا ء کروایا گیا بلکہ ملزم کی ملک بدری کی درخواست بھی داخل عدالت کردی گئی۔ نیب لاہور کی جانب سے ملزم عمران علی یوسف کی جائیدادوں کی تفصیلات عدالت کو فراہم کرتے ہوئے انہیں ضبط کرنے کی درخواست بھی کی گئی جسے معزز عدالت کی جانب سے منظور کیا گیا۔

نیب کی جانب سے منجمد کرائی گئی ملزم عمران علی کی جائیدادوں میں علی ٹاور لاہور میں بیش قیمت 67 یونٹس، علی ٹریڈ سینٹر لاہور میں 50 یونٹس (دکانیں، دفاتر اور اپارٹمنٹس وغیرہ) کے علاوہ ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ 5 مختلف کمپنیوں میں شیئرز شامل ہیںجبکہ ان سے حاصل ہونیوالے سرمایہ کی وصولی کیلئے عدالت سے باقاعدہ ریسیور کا تعین بھی کروایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکرہ ریسیور کی جانب سے اکتوبر 2019 سے اگست 2020 کے دوران صرف ایک کرایہ دار سے 2 کروڑ 40 لاکھ 97 ہزار مالیت کا سرمایہ اکھٹا کیا جا چکا ہے تاہم جائیداد ضبطگی اور ریسیور کی تعیناتی کے خلاف ملزم عمران علی یوسف کی جانب سے عدالت میں رٹ دائر کی گئی جسے 17 جنوری 2021 کو عدالت کی جانب سے مسترد کر دیا گیا ۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments