وزیراعلیٰ عثمان بزدارسے وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی ملاقات، کورونا کی پانچویں لہرسے عوام کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال

شہریوں کو بوسٹر ڈوذ لگانے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے، کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائی:عثمان بزدار

منگل 18 جنوری 2022 21:14

وزیراعلیٰ عثمان بزدارسے وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی ملاقات، کورونا کی پانچویں لہرسے عوام کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 18 جنوری2022ء) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارسے وزیراعلیٰ آفس میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے ملاقات کی جس میں کورونا کی پانچویں لہرسے عوام کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں ’’نیا پاکستان قومی صحت کارڈ‘‘پروگرام پر ہونے والی پیش رفت پر بھی بات چیت کی گئی۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کورونا مریضوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ ایس او پیز پر عمل کرکے شہری کورونا سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔موجودہ لہر کے پیش نظر شہریوں کو مزید احتیاط کرنا ہوگی۔شہریوں کو بوسٹر ڈوذ لگانے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔

(جاری ہے)

محکمہ صحت بوسٹر ڈوذ لگانے کے حوالے سے بھرپور آگاہی مہم جاری رکھے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے شہریوں کوان کے گھر جاکرویکسی نیشن کی سہولت فراہم کی ہے ۔ ’’نیا پاکستان قومی صحت کارڈ‘‘ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا فلیگ شپ پروگرام ہے ۔ صحت کارڈ کے ذریعے ہرخاندان سالانہ 10لاکھ روپے کامفت علاج کراسکے گا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ عوام کی سہولت کیلئے یونیورسل ہیلتھ کیئر پروگرام کے تحت بیڈز کی تعداد10ہزار سے بڑھا کر30ہزارکردی گئی ہے جبکہ پینل پر موجودسرکاری اورنجی ہسپتالوں کی تعداد43 سے بڑھا کر150کردی گئی ہے۔

’’نیا پاکستان قومی صحت کارڈ‘‘ کے ذریعے کینسرسمیت مہلک بیماریوں کا علاج ہوسکے گا۔ امراض قلب، ہیپاٹائٹس، امراض جگر، ٹی بی، ایڈز، ایمرجنسی، فریکچر کی صورت میں صوبہ بھر کے معیاری نجی ہسپتالوں سے (مفت علاج کرایا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ مارچ تک 3کروڑ خاندان اور ساڑھے گیارہ کروڑ افراد کو علاج معالجے کی مفت سہولتیں میسر ہوں گی۔سیکرٹری سپیشلائز ڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اور پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments