اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںمیٹنگ کیلئے بلا کررینجرزاہلکاروں کو شہید کرنے پر بھارت کومنہ توڑ جواب ..

میٹنگ کیلئے بلا کررینجرزاہلکاروں کو شہید کرنے پر بھارت کومنہ توڑ جواب دیا جائے‘ جماعت اسلامی پنجاب

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتاز ترین ۔ 1جنوری 2015ء) پارلیمانی لیڈرصوبائی اسمبلی و امیرجماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹرسیدوسیم اختراور سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ نے شکرگڑھ سیکٹر میں بھارتی فوج کا فلیگ میٹنگ کے بہانے بلاکر2پاکستانی رینجراہلکاروں کوشہید کرنے کے واقعے پر گہرے غم وغصے کااظہارکرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ وہ ہندوستان کی جانب سے کی جانے والی اس کاروائی کاسنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے بھارت کے خلاف اعلان جہاد کرے۔

لانس نائیک صفدر اور نائیک ریاض شاکر کے خون کابدلہ لینا حکومت پاکستان اور آرمی چیف پر فرض ہے۔مودی سرکار کے آنے سے انڈیا کابدترین اور خطرناک چہرہ کھل کر دنیا کے سامنے آچکاہے۔ہندوستان کے حوصلے پست کرنے کے لئے بھارت کو منہ توڑ جواب دینا چاہئے۔

(خبر جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ بھارتی بارڈرسیکیورٹی فورس کے لوکل کمانڈرزنے فلیگ میٹنگ کے لئے کال کی تھی اور جب رینجرز اہلکارزیرولائن پر پہنچے توبھارتی فوج نے تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں پاکستانی رینجرز کے دونوجوان زخمی ہوگئے۔

انڈین آرمی نے زخمی اہلکاروں کواٹھانے نہ دیا اور نائیک ریاض شاکر اور لانس نائیک صفدر طبی امداد نہ ملنے پرجام شہادت نوش کرگئے۔بھارتی فوج کی جانب سے جارحیت کایہ واقعہ کوئی نیا نہیں اس سے پہلے بھی بی ایس ایف پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتی اور ہمارے فوجی وسول لوگوں کوشہید کرتی رہی ہے۔بھارتی فوج نے گزشتہ تین سالوں میں95بار فائربندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے مزیدکہاکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان ہماراکھلادشمن ہے جس نے پاکستان کونقصان پہنچانے کاکوئی بھی موقع ہاتھ سے خالی نہیں جانے دیا۔کھیلوں کے میدانوں سے لے کر عالمی فورموں تک اس کی انتہاء پسندی اور پاکستان مخالف دشمنی واضح طور پر نظر آتی ہے۔جب تک ہندوستان کشمیر کو آزاد،بلوچستان میں مداخلت اور آبی جارحیت کاخاتمہ نہیں کرلیتاتب تک اس کے ساتھ تعلقات استوار نہیں ہوسکتے۔

گجرات میں مسلمانوں کاقتل عام اور سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس بھارت کے دامن پر سیاہ دھبے ہیں جنہیں کبھی دھویانہیں جاسکتا۔حکومت پاکستان ہوش کے ناخن لیتے ہوئے ایسے فیصلے کرے جو حقیقی معنوں میں 18کروڑ پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی کریں۔ہندوستان سے دوستی کے خواہاں افراد کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔


اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں