اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںہائیکورٹ بار نے فوجی عدالتوں کو مسترد کر دیا ، وکلاء برادری سے آگاہی ..

ہائیکورٹ بار نے فوجی عدالتوں کو مسترد کر دیا ، وکلاء برادری سے آگاہی کیلئے آل پاکستان نمائندہ وکلاء کنونشن بلانے کا اعلان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتاز ترین ۔ 1جنوری 2015ء) لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے ملک بھر کی وکلاء برادری سے فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے آگاہی حاصل کرنے کیلئے آل پاکستان نمائندہ وکلاء کنونشن بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن فوجی عدالتوں کی کسی بھی شکل میں قیام کو آئین و قانون کے خلاف سمجھتی ہے اور فوجی عدالتوں کو مسترد کرتی ہے۔

جمعرات کے روز لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل ہاؤس کا اجلاس ملٹری کورٹس کے قیام پر وکلاء برادری کے تحفظات، خدشات اور تجاویز پر غورو خوض کرنے کیلئے قائمقام صدر عامر جلیل صدیقی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنمیاں محمد احمد چھچھر ،فنانس سیکرٹری میاں محمد اقبال کے علاوہ وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

(خبر جاری ہے)

قائمقام صدر عامر جلیل صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین و قانون کی حکمرانی اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے وکلاء کی طرف نظر لگائے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت اور پارلیمنٹ میں موجودہ سیاسی جماعتوں کے نمائندگان کو بتانا چاہتے ہیں کہ آئین، قانون ، عدلیہ اور جمہوریت کے اصل فریق پاکستان کے وکلاء ہیں۔ اس موقع پر سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میاں محمد احمد چھچھر نے قرارداد رائے شماری کیلئے ہاؤس کے سامنے پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

قرار داد کے متن میں کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ایوان بالا اور و ایوان زیریں کے نمائندگان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ کسی طور ایسے بل کو منظور نہ کریں جسکے تحت فوجی عدالتوں کا وجود عمل میں لایا جا سکے۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن مطالبہ کرتی ہے کہ موجودہ نظام عدل کو مضبوط کیا جائے۔ تمام متعلقہ ایجنسیوں اور تفتیش کے نظام کو بہتر کیا جائے۔

گواہان کی سکیورٹی کا مناسب بندوبست کیا جائے۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملک بھر کی وکلاء برادری سے فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالہ سے آگاہی حاصل کرنے کیلئے آل پاکستان نمائندہ وکلاء کنونشن بلائے گی۔ اس موقع پر میاں محمد احمد چھچھر ،چوہدری ذوالفقار علی ، عبدالرشید قریشی ایڈووکیٹ، بیرسٹر ظفر اللہ خان ، ملک محمد قیوم ایڈووکیٹ، راجہ ذوالقرنین سابق سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، تنویر چوہدری ایڈووکیٹ، شیخ مشتاق احمد ایڈووکیٹ، حامد خان سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور عاصمہ جہانگیر سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اس سانحہ نے نا صرف پاکستان بلکہ تمام مہذب دنیا کے عوام کو رلا دیا ۔

وطن عزیز عرصہ دراز سے دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دنیا میں مشہور ہے۔ سانحہ پشاور کے بعد فوج ، حکومت اور پارلیمنٹ میں موجود سیاسی اکابرین دہشت گردی سے موثر طور پر بزد آزما ہونے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھے اور فیصلہ فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کی وکلاء برادری آئین پاکستان کی امین ہے اور ہم نے آئین و قانون کی حکمرانی، عدلیہ اور جمہوریت کی مضبوطی کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی میں ملوث افراد اور انکے حامیوں کی سخت سے سخت سزا کے حق میں ہیں لیکن اس کا حل فوجی عدالتوں کے قیام سے اسلئے ممکن نہ ہے کہ اس سے پہلے بھی فوجی عدالتوں کے تجربہ میں عوام گزر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عدالتی نظام میں کمزوریاں ہو سکتی ہیں، جمہوریت میں بھی خامیاں ہو سکتی ہیں لیکن یہ تمام خامیاں مارشل لاء کے نفاذ سے بد رجہا بہتر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ملکی یکجہتی، اتحاد و یگانگت پیدا کرنے کی انتہائی ضرورت ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب کو انتہائی غور وخوض ، تدبراور تحمل سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا قیام بنیادی انسانی حقوق کی نفی ہے جسے وکلاء کسی صورت برداشت نہیں کریں گے، کیونکہ ان عدالتوں کا قیام آئین پاکستان کا چہرہ مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

ہمیں یہ دیکھنا اور سوچنا ہے کہ سانحہ پشاور کس ادارے کی ناکامی ہے۔ کیا فوجی عدالتوں کے قیام کا مقصد دہشت گردوں کو خوفزدہ کرنا ہے جو پہلے ہی اپنے آپ کو مارنے پر تیار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عدالتی نظام کو آئین کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم کسی ایسی غیر آئینی چیز کو قابل قبول ہونے کیلئے آئین میں کسی صورت ترامیم کیوں کریں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح حکومت نے اچھے اور برے طالبان میں تمیز ختم کرنے کا اعلان کیا اسی طرح اچھی جہاد تنظیموں اور بری جہادی تنظیموں میں فرق کو بھی ختم کر دیا جائے اور تمام نجی فوجوں کی موجودگی کا قلع قمع کیا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ عدالتیں دہشت گردوں/مجرموں کو سزا نہیں دیتیں حالانکہ معاملات اس کے برعکس ہیں کیوں کہ عدالتوں کی دی گئی سزاؤوں پر کسی مصلحت کے تحت عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنا ان کا کام ہے۔ فوجی عدالتوں کا قیام آئین میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کو ختم کرنا ہے اور ہم پارلیمنٹ کو یہ کام نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سول اداروں کی بالادستی دہشت گردی روکنے کی واحد چابی ہے۔


اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں