اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںحکومت نے بجلی کے بریک ڈاؤن پر قوم سے معذرت کر لی ،اس واقعہ سے سبق حاصل ..

حکومت نے بجلی کے بریک ڈاؤن پر قوم سے معذرت کر لی ،اس واقعہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے،لیاقت علی جتوئی

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26ستمبر۔2006ء ) حکومت نے اتوار کو ملک بھر میں بڑے پیمانے پر بجلی کے بریک ڈاؤن پر قو م سے معذرت کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ اس واقعہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے بجلی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔ یہ بات وفاقی وزیر پانی و بجلی لیاقت علی جتوئی نے منگل کو یہاں اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے اس موقع پر جس حوصلے،تعاون اور برداشت کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے اس قسم کے واقعات بڑے نظام میں تکنیکی نقائص کے باعث ہوتے ہیں قوم کو جس تکلیف کو برداشت کر نا پڑا اس پر ہم معذرت کرتے ہیں ۔ اجلاس میں سیکرٹری پانی و بجلی اشفاق محمود،چیئر مین واپڈا طارق حمید ،ممبر پاور انور خالد،چیف ایگزیکٹو این ٹی ڈی سی محمد مشتاق چوہدری،وفاقی کمشنر انڈس واٹر جماعت علی شاہ،نائب صدر نیسپاک طارق مہدی اور دیگر حکام موجود تھے ۔

(خبر جاری ہے)

وفاقی وزیر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ بروتھا گرڈ سرکٹ میں پانچ سو کے وی لائن پر نقص کی اطلاع ملی جبکہ اس وقت تربیلا سے لاہور سرکٹ پر بھی مرمت کی جارہی تھی اس سے تقریبا 4700میگا واٹ ٹرانسمیشن میں رکاوٹ پیدا ہوئی جو تربیلا اور غازی بروتھا سے ہوتی تھی ۔ اس کے نتیجے میں پاور پلانٹس ٹرپ کر گئے ۔ وفاقی وزیر نے کسی قسم کی تخریب کاری کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ بریک ڈاؤن روات لاہور ٹرانسمیشن لائن میں تکنیکی خرابی سے ہو ا۔

بریک ڈاؤن کے دور ان وزیر اعظم نے صورتحال کا بغور جائزہ لیا ۔ اور 48گھنٹے میں انکوائری کا حکم جاری کیا ۔ وزارت پانی و بجلی نے ایک خود مختار انکوائری کمیٹی بنائی تاکہ واپڈا کی انکوائری رپورٹ کا جائزہ لیا جاسکے ۔ حکومت انکوائری کمیٹی کا انتظار کرے گی ۔ تاکہ اتنے بڑے بریک ڈاؤن کی وجوہ سامنے آسکے ۔اس واقعہ کو لوڈ شیڈنگ کی بڑی کوشش قرار دینے کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے وفاقی وزیرنے کہاکہ ہمارے پاس وافر بجلی موجود ہے اورہمیں اچانک لوڈ شیڈنگ کی کوئی ضرورت نہیں چیئر مین واپڈا نے کہا کہ اس وقت بجلی کی پیداوار 13500میگا واٹ ہے جو ہماری ضروریات کے لئے کافی ہے لیاقت علی جتوئی نے کہاکہ بجلی کی بحالی ایک مشکل ٹاسک تھا اس پر واپڈا کے انجینئروں،سٹاف اور ورکروں نے جس طرح کام کیا وہ قابل تحسین ہے جہاں ان لوگوں کو انعام دیا جائیگا وہاں ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی جو اس واقعہ کے ذمہ دار ہونگے ۔

ممبر پاور انور خالد نے اجلاس کو تفصیلات بتاتے ہوئے ٹرانسمیشن کے نظام میں بہتری کے لئے منصوبہ پیش کیا ۔ انہوں نے کہاکہ 500کے وی اے اور 200کے وی اے کے بارہ منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جن پر چودہ ارب روپے لاگت آئی ہے جبکہ اٹھارہ منصوبوں پر کام جاری ہے ان پر 35ارب روپے خرچ ہونگے اور یہ منصوبے آئندہ دوسال میں مکمل ہونگے ۔اس کے ساتھ ساتھ 163گرڈ سٹیشن بھی چار ارب روپے سے مکمل کئے جارہے ہیں جس سے ہمارا ٹرانسمیشن کا نظام اس قابل ہوگا کہ وہ دسمبر 2006ء تک ایک لاکھ پچاس ہزار میگا واٹ بجلی فراہم کر سکے گا ۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ وہ خود صدر جنرل پرویز مشرف اوروزیراعظم شوکت عزیز ان منصوبوں کو مانیٹر کررہے ہیں اوریقین دلایا کہ حکومت ان کے لئے ضروری فنڈ فراہم کرے گی کیونکہ حکومت نہ صرف زیادہ سے زیادہ پیداوار بلکہ اس کی بلا وجہ روک ٹوک فراہمی چاہتی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں