اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںنیا بلدیاتی نظام (آج )سے نافذ العمل ،سول ایڈ منسٹریشن آرڈیننس جاری ہونے ..

نیا بلدیاتی نظام (آج )سے نافذ العمل ،سول ایڈ منسٹریشن آرڈیننس جاری ہونے سے بلدیاتی نمائندے بھی اختیارات کے حوالے سے تذبذب کا شکار

اعزازیہ مقرر ہونے کے حوالے سے فیصلہ رواں ہفتے متوقع،ڈپٹی کمشنر ز ایجوکیشن ،ہیلتھ اتھارٹیز کے ایڈمنسٹریٹرزکی ذمہ داریاں بھی نبھائیں گے, لاہور کی ضلعی اسمبلی کا پہلا باضابطہ اجلاس آج ایوان اقبال میں منعقد ہوگا ،لارڈ میئر کر نل (ر) مبشر اپنی پہلی تقریر میں پا لیسی بیان کریں گے , کسی سطح پر اختیارات کی کوئی جنگ نہیں ،کمشنری نظام کو بلدیاتی نمائندوں پر سبقت حاصل ہونے کی باتیں درست نہیں ‘ لارڈ میئر, حکومت کی تمام مشینری کا مقصد عوام کی خدمت ہے ،کابینہ کی میٹنگز چل رہی ہیں ،ایک دو روز میں سب واضح ہو جائیگا‘ مبشر جاوید کی گفتگو

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جنوری2017ء)پنجاب بھر میں نیا بلدیاتی نظام آج ( پیر) سے نافذ العمل ہوگا جس کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں ، سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس 2016ء کے نفاذ اور اپوزیشن جماعتوں کے بیانات کے بعد بلدیاتی نمائندے بھی اختیارات کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہو گئے ،ڈپٹی کمشنر ز ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کے ایڈمنسٹریٹرزکی ذمہ داریاں بھی نبھائیں گے،بلدیاتی نمائندوں کا اعزازیہ مقرر کرنے کے حوالے سے فیصلہ رواں ہفتے متوقع ہے ۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ بلدیات نے پرانے نظام کے خاتمے اور نئے بلدیاتی اداروں کے حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔بلدیاتی اداروں کے تمام سربراہان آج پیر سے عہدوںکا چارج سنبھال لیں گے۔

(خبر جاری ہے)

ضلعی حکومتوں کے وجود میں آنے کے باعث عوام کے گلی محلے کی سطح ان کی دہلیز پر حل ہو سکیں گے۔ پنجاب حکومت کی طرف سے صوبائی مالیاتی کمیشن ایوارڈ 2016 کے تحت بلدیاتی حکومتوںکو دیئے جانے والے وسائل میں خاطرخواہ اضافہ کیا گیاہے جسکے تحت بلدیاتی حکومتوں کو 391 ارب روپے ملیں گے جبکہ گزشتہ برس اس ضمن میں 274 ارب روپے دیئے گئے تھے۔

ترقیاتی فنڈ کسی اور مد میں استعمال کرنے پر پابندی ہوگی اور یہ فنڈز صرف ترقیاتی مد میں ہی استعمال ہوں گے۔ جنوبی پنجاب اور پسماندہ اضلاع کی بلدیاتی حکومتوں کو پہلے سے زیادہ وسائل ملیں گے جبکہ شہری اور دیہی یونین کونسلوں کو یکساں فنڈز دیئے جائیں گے۔ اس طرح شہری اور دیہی یونین کونسلوں میں فنڈز کی تقسیم کے حوالے سے تفریق ختم کردی گئی ہے اور اس اقدام سے دیہی یونین کونسلوں کو بھی شہری یونین کونسلوں کے برابر فنڈز ملیں گے۔

بتایا گیا ہے کہ جو بلدیاتی حکومتیں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی انہیں اضافی فنڈز بھی دیئے جائیں گے جبکہ فنڈز کے استعمال کے حوالے سے باقاعدہ آڈٹ کا میکانزم بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ نئے نظام میں ضلع کی سطح پر امن و امان کی صورتحال اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے میئرز، چیئرمین ضلع کونسلز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی او ز ذمہ دار ہوں گے جبکہ اس حوالے سے ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل کی سطح پر کوآرڈینیشن کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی۔

صوبے میں سیفٹی کمیشن اور پولیس کمپلینٹ اتھارٹیز قائم کی جائیں گی۔ سول ایڈمنسٹریشن آرڈیننس2016ء کے نفاذ کے بعد ڈپٹی کمشنر زکو ایک اور اضافی ذمہ داری بھی سونپ دی گئی گے۔ڈپٹی کمشنرز ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کے ایڈمنسٹریٹرزکی ذمہ داریاں بھی نبھائیں گے۔ اس حوالے سے باضابطہ نو ٹیفکیشن بھی جا ری کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بلدیاتی نمائندوں کو اعزازیہ دینے کے حوالے سے فیصلہ رواں ہفتے متوقع ہے ۔پنجاب حکومت نے بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کو مختلف امور کی انجام دہی کیلئے تربیت دینے کافیصلہ بھی کر رکھا ہے جسکے تحت لارڈ میئر،میئرز، ڈپٹی میئرز،چیئرمینز اور وائس چیئرمینز کو نئے بلدیاتی ایکٹ ،مالی معاملات ، اخلاقیات اور دیگر ذمہ داریوں کے حوالے سے تین روزہ تربیت دی جائے گی ۔

بلدیاتی نمائندوں کو صوبائی اور ضلعی حکومت کے ساتھ ورکنگ ریلیشن بارے بھی آگاہ کیا جائے گا ۔ لاہور کی ضلعی اسمبلی کا پہلا باضابطہ اجلاس آج (پیر) کے روز منعقد ہوگا ،اراکین کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث اجلاس ٹائون ہال کی بجائے ایوان اقبال میں بلانے کا فیصلہ کیا گیا ۔اجلاس کے طے شدہ ایجنڈے کے مطابق قومی ترانہ ، تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ؐ کے بعد بلدیاتی نمائندگان و قائد حزب اختلاف کی تقاریر ہوں گی جبکہ لارڈ میئر کر نل (ر) مبشر جا وید اپنی پہلی تقریر میں پا لیسی بیان دیں گے ۔

میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے لاہور کے لارڈ میئر کرنل (ر) مبشر جاوید نے کہا ہے کہ کسی سطح پر اختیارات کی کوئی جنگ نہیں ،کمشنری نظام کو بلدیاتی نمائندوں پر سبقت حاصل ہونے کی باتیں درست نہیں بلکہ حکومت کی تمام مشینری کا مقصد عوام کی خدمت ہوتا ہے ،لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013اور ترمیمی ایکٹ 2016بڑا واضح ہے ، کابینہ کی میٹنگز چل رہی ہیں اور آنے والے ایک دو روز میں سب واضح ہو جائے گا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں