سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن 40 فیصد کم ،ایف بی آر میں بہت سی اصلاحات کی ضرورت ہے‘طارق فیروز

وفاقی محتسب ٹیکسیز لوگوں کی ٹیکس نیٹ سے وجہ دوری، حکومت نئے بجٹ سے قبل تاجر وںکے درینہ مطالبے پر نظر ثانی کرے

اتوار جنوری 16:50

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جنوری2017ء) انجمن تاجران لاہور کے صدر میاں طارق فیروز و جوائنٹ سیکرٹری میاں سلیم نے کہا ہے کہ سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن 40 فیصد کم جمع ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایف بی آر میں بہت سی اصلاحات کی ضرورت ہے وفاقی محتسب ٹیکسیز کی وجہ سے لوگوں کی ٹیکس نیٹ سے دوری ہے حکومت کو نئے وفاقی بجٹ سے قبل تاجر برادری کے درینہ مطالبے پر نظر ثانی کرنی چاہیے ۔

اپنے ایک بیان میں انہوںنے کہاکہ ود ہولڈنگ ٹیکس کا نفاذ ایف بی آر کی کمزوری ظاہر کرتا ہے حکومت کو ڈائریکٹ ٹیکسیز پر انحصار کرنا ہوگا، تاکہ تاجر برادری اور ایف بی آر میں موجود خلا ء کو ختم کیا جا سکے ۔انہوںنے کہا کہ ایف بی آر کی ٹیکس پالیسیوں کی وجہ سے نئے کاروباری لوگ ٹیکس دینے سے کتراتے ہیں، میا ں سلیم نے کہا کہ حکومت نئے بجٹ میں 150 ارب روپے کی نئے ٹیکس لگانے کی تیاریوں میں مصروف ہے اس سے ملک کے کاروباری حالات مزید خراب ہونگے حکومت کو چاہیے کہ وہ نئے ٹیکس مسلط کرنے کی بجائے اپنے ٹیکس نیٹ کو بڑھائے اور نئے ٹیکس گزاروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے ۔

(جاری ہے)

پہلے سے موجود ٹیکس دینے والوں کا خون نچوڑنے سے گریز کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ 85 فیصد انڈسٹری پہلے ہی بند پڑی ہے جبکہ سمال ٹریڈرز کاروبار نہ ہونے کے بعد اپنی راس کھانے کے بعد اب دوسروں کے مقروض ہو رہے ہیںان حالات میںنئے ٹیکسوں کا نفاذ جلتی پر تیل کا کام کرے گا،لہذا نئے ٹیکس لگانے کا فیصلہ کسی بھی صورت حکومت کے مفاد میں نہیںہوگا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت سٹیل ملز ، پی آئی اے اور واپڈا جسیے قومی اداروں کی نج کاری کرنے کی بجائے طول و عرض پر پھیلے وزیر اعظم ہاؤس ، گورنر ہاؤس اور وزیر اعلی ہاؤسز اور چیف گیسٹ ہاؤسز کی نج کاری کر کے ملک کے بھاری بھرکم قرضے اتارے اور ان قومی اداروں کو چلانے کیلئے ایماندار اور ذمہ دار افسران کو اعلی عہدوں پر فائز کر کے چلا یا جائے ۔

متعلقہ عنوان :

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments