اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںدھرنا دیتے تو مارشل لاء لگ سکتا تھا‘چو ہدری عتزاز احسن

دھرنا دیتے تو مارشل لاء لگ سکتا تھا‘چو ہدری عتزاز احسن

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔3جنوری۔2008ء) سپریم کورٹ بار کے سابق صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اگر چودہ جون کو پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا جاتا تو ملک میں مارشل لاء لگ سکتا تھا۔وہ لاہور میں اپنی رہائش گاہ پرصحا فیوں سے گفتگو کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ صدر سمیت حکومت میں شامل تمام جماعتوں کے سربراہوں نے عوام سے وعدہ خلافی کی ہے۔

(خبر جاری ہے)

اعتزاز احسن نے کہا کہ اب حکومت کے پاس چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر کا کہنا تھا کہ نو مارچ کو ہونے والا لانگ مارچ ملکی تاریخ کا سب بڑا مارچ ہوگا۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ لاہور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں ان کے حامی وکلاء کی ہمدردیاں صدارتی امیدوار طارق جاوید کے ساتھ ہیں اور ان کا حامد خان سے اختلاف رائے ہے، جو رانا ضیاء عبدالرحمن کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر وکلاء تحریک کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائیگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں