اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںگوانتاناموبے کے سابق قیدی کا امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر

گوانتاناموبے کے سابق قیدی کا امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر

لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔15جنوری 2009 ء) گوانتاناموبے جیل میں چھ برس قید کاٹنے والے بے گناہ پاکستانی شہری نے امریکی حکومت کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا ۔ امریکی انتظامیہ نے پہلی گوانتاناموجیل کے قیدیوں پر تشدد کا اعتراف کرلیا ۔ محمد اقبال نامی پاکستانی شہری امریکا کی گوانتاناموبے میں چھ برس کی قید کاٹنے کے بعد گزشتہ برس اگست میں رہائی پاکر لاہور پہنچا ۔

رہائی کے بعد امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے طویل انٹر ویو میں محمد اقبال نے کہا کہ چھ برس تک امریکیوں نے اس کے ساتھ جو کیا وہ باعث شرمندگی ہے ۔ محمد اقبال کو دو ہزار دو میں جکارتہ سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ اس پر الزام تھا کہ وہ ایک اسلامی تنظیم کا رکن ہے اور جوتے کے بم بنانے میں ماہر ہے ۔

(خبر جاری ہے)

اس نے بتایا کہ گرفتاری کے دودن کے بعد بدنام زمانہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے اسے مصر منتقل کردیا جس کے بعد اسے افغانستان اور پھر گوانتاناموبے منتقل کردیا گیا تھا ۔

محمد اقبال نے بتایا کہ اس پر تشدد جکارتہ ایئر پورٹ سے شروع کردیا گیا تھا ۔ اس نے بتایا کہ وہ تیئس مارچ دوہزار تین کو گوانتاناموبے پہنچاجہاں برسوں تک قید و بند کی صعوبتیں اور وحشیانہ تشدد برداشت کرنے کے بعد رہ بے گناہ قرار پایا ۔ قید کے تمام عرصے میں امریکی اہلکاروں نے اسے شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانا بنایا ۔ اس نے بتایا کہ رہائی کے بعد اسے امریکی فوج کے خصوصی طیارے میں اسلام آباد پہنچایا گیا ۔

اسلام آباد میں اسے پاکستانی سیکورٹی اداروں نے تین ہفتے اپنی تحویل میں رکھا ۔ محمد اقبال کے مطابق یہ وقت دوستانہ ماحول میں گزرا جس کے بعد اسے واپس اس کے آبائی شہر لاہور میں خاندان کے حوالے کردیا گیا ۔ محمد اقبال کے امریکی وکیل رچرڈ سائز اس کی غیر قانونی حراست اور امریکی ایجنسیوں کی جانب سے اس کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے خلاف امریکی عدالتوں میں دائر مقدمات کی پیروی کررہے ہیں۔

رچرڈ سائز نے امریکی فیڈرل کورٹس میں محمد اقبال کے میڈیکل ریکارڈ کے حصول کا بھی مقدمہ دائر کررکھا ہے تاکہ محمد اقبال پر مصر میں دوران حراست ہونے والے غیر انسانی سلوک کی تصدیق کی جاسکے ۔دوسری جانب بش انتظامیہ کی سینیئر اہلکار نے پہلی مرتبہ عوامی سطح پر گوانتاناموبے میں لوگوں پر دوران حراست تشدد کا اعتراف کرلیا ۔ امریکی انتظامیہ کی سینیئر اہلکار سوسن کرافورڈ نے امریکی اخبار پوسٹ کو بتایا کہ امریکی فوج نے گیارہ ستمبر دوہزار ایک کے حملے میں مبینہ طور پر ملوث سعودی باشندے محمد القحطانی کو دوران حراست شدید تشدد کا نشانہ بنایا ۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ کیا جانے والا سلوک قانونی طور پر تشدد کے زمرے میں آتا ہے اور اسی وجہ سے اس کا مقدمہ عدالت کو نہیں بھیجا گیا ۔
امریکی اہلکار نے بتایا کہ گوانتانامو جیل میں محمد القحطانی کو امریکی فوج نے تفتیش کے دوران قید تنہائی ، نیند سے محروم ، برہنہ اور کئی گھنٹوں تک سخت سردی میں رکھا جاتا جس کی وجہ سے اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا ۔ سوسن کرافورڈ نے مئی دوہزار آٹھ میں محمد القحطانی کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات واپس لے لئے تھے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں