نئی نسل کو مغربی تہذیب کی محفوظ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ حکمرانوں کے خلاف تمام جمہوری قوتیں یک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوجائیں ہمیں ایک فیصلہ کن عوامی تحریک کا آغاز کردینا چاہیے ‘اسی میں ہماری بقاء اور پاکستان کی سلامتی ہے،مسلم لیگ (ن)پنجاب کے جنرل سیکرٹری راجہ اشفاق سرور کا تقریب سے خطاب

جمعرات ستمبر 18:25

لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین21 ستمبر2006 ) پاکستان مسلم لیگ(ن) پنجاب کے جنرل سیکرٹری راجہ اشفاق سرو ر نے کہاہے کہ اسلامی اور جمہوری روایات کی ترجمانی کرنے کی بجائے روشن خیال تہذیب کو پروان چڑھانے والے غیر نمائندہ حکمران وطن عزیز میں اپنے مذموم مقاصد اور تحفظات کیلئے تہذیبی جنگ کی سازش میں ملوث ہیں ،اگر انہیں نہ روکا گیا تو یہ حکمران ہمارا سلامی تشخص مٹا دیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ (ن) لیبر ونگ پنجاب کے صدر سید مشتاق حسین شاہ کی رہائش گاہ پرایک استقبالیہ کے دوران کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔استقبالیہ کی صدارت مسلم لیگ (ن) کے صد رسردار ذوالفقارعلی خان کھوسہ نے کی ۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) لیبرونگ کے مرکزی صد رچوہدری برجیس طاہر ، ایم ایس ایف کے مرکزی صد ررانا محمد ارشد ، شیخوپورہ کے ضلعی صدر حاجی محمد نواز، مرکزی رہنما میاں جاوید لطیف اور نائب صدر پنجاب محمد عارف خان سندھیلہ سمیت متعدد کارکنان نے شرکت کی ۔

(جاری ہے)

راجہ اشفاق سرور نے کہاکہ نئی نسل کو مغربی تہذیب کی محفوظ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ملک پر قابض غیر آئینی حکمرانوں کے خلاف تمام جمہوری قوتیں باہمی اتفاق رائے سے یک نکاتی ایجنڈے پر متفق ہوجائیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں اپنے روشن خیال معاشرے کی آڑ میں ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کومشرتی تہذیب سے دور کردینے کی سازش میں پوری طرح ملوث ہیں اب ان کی سیاست کامقصداسلامی معاشرے کو مغربی تہذیب میں لپیٹنا ہے، اگر یہ دوبارہ ایوانوں میں آگئے تو ہمیں مغربی تہذیب سے نہ صرف دوچارہونا پڑے گا بلکہ ہماری نئی نسل اپنی اسلامی اور ثقافتی اقدار کو بھول جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ عوام کی بڑی تعداد میاں نواز شریف کو آج بھی اپنا وزیراعظم مانتی ہے ، پاکستان کی غیورعوام اپنے قائد میاں نواز شریف کو وطن واپس لانے کیلئے ان مفاد پرست آمرٹولے کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔ یہ لوگ مذاکرات سے نہیں تحریک سے جائیں گے۔اب ہمیں ایک فیصلہ کن عوامی تحریک کا آغاز کردینا چاہیے ،اسی میں ہماری بقااور پاکستان کی سلامتی۔ے

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments