قوم کا ہر فردیوم آزادی کو اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کی جدوجہد آزادی کی لازوال تحریک سے منسوب کرتے ہیں،صوبائی وزیر اوقاف پیر سید سعید الحسن شاہ کایوم آزادی کے سلسلہ میں تقریب سے خطاب

بدھ اگست 14:00

لاہور۔14 اگست(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 اگست2019ء) صوبائی وزیر اوقاف پیر سید سعید الحسن شاہ نے کہا ہے کہ 14 اگست پاکستان کے 72 واں یوم آزادی پر پوری قوم کو وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے مبارک باد پیش کرتے ہیں،یوم آزادی دراصل یوم تشکر اور یوم تجدید عہد بھی ہے،یوم آزادی اس لحاظ سے بے حد اہمیت کا حامل ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظلم و استبداد انتہا کو پہنچ چکے ہیں، ہم یوم آزادی کو اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کی جدوجہد آزادی کی لازوال تحریک سے منسوب کرتے ہیں کیونکہ کشمیر پاکستان کے بغیراور پاکستان کشمیر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔

ان خیالات کاا ظہار انہوں نے یوم آزادی کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، صوبائی وزیر نے کہا کہ اس موقع پر قائداعظمؒ کے الفاظ کو دہراتا ہوں کہ ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘۔

(جاری ہے)

دنیا کی کوئی طاقت کشمیر کو پاکستان سے جدا نہیں کرسکتی۔ یہ یک جان دو قالب ہیں، کشمیر پاکستان ہے اور پاکستان کشمیر ہے، انہوں نے کہا کہ ہر جمعةالمبارک کو تمام مساجد میں یوم یکجہتی کشمیر منا کر پوری دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ کشمیری تنہا نہیں، پاکستان کی حکومت اور عوام ان کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، کشمیر کے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے یوم آزادی پر سبز ہلالی پرچم کے ساتھ ساتھ کشمیر کے پرچم بھی لہرائے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طو رپر منایا جائے گا، 15 اگست کو سیاہ پرچم لہرا کر اور بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ہم عالمی برادری کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے، ان تمام اقدامات کا مقصد عالمی رائے عامہ کو بھارتی مظالم کے خلاف متحرک کرنا ہے، اس سلسلہ میں پنجاب کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار محبت کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور دنیا کو بتا دیں گے کہ کشمیر آج بھی ہمارا ہے،یوم آزادی کی خوشیاں منانے کے ساتھ ساتھ ہمیں ان تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا جو وطن عزیز کی طرف سے ہم پر واجب الادا ہیں، ہمیں اچھے شہری اور اچھے پاکستانی بننا ہوگا اور اس کیلئے تمام تر قوانین کی پابندی کو شعار بنانا ہوگا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments