لاہور ہائیکورٹ نے جنوبی افریقن لڑکی کوپاکستانی لڑکے سے شادی کے بعد وطن واپس جانے سے روکنے کے خلاف ڈائریکٹر امیگریشن کو ذاتی حیثیت میںطلب کرلیا

جمعہ ستمبر 23:59

لاہور۔20 ستمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 ستمبر2019ء) لاہور ہائیکورٹ نے جنوبی افریقن لڑکی کوپاکستانی لڑکے سے شادی کے بعد پاکستانی امیگریشن حکام کی جانب سے وطن واپس جانے سے روکنے کے خلاف ڈائریکٹر امیگریشن لاہور کوجواب سمیت ذاتی حیثیت میں24ستمبرکوطلب کرلیا۔جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے افریقن لڑکی نذویرا احمد کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل افتخار شاہد نے عدالت کو بتایا کہ امیگریشن حکام نے جنوبی افریقن لڑکی نذویرا احمدکوبورڈنگ کے باوجودآف لوڈکردیا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ بیوی اوربیٹے کو آف لوڈ کرکے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔جبکہ نذویرااحمد نے درخواست گزار پاکستانی لڑکے عبدالرحمن سے شادی کی۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شادی کے بعد دونوں پاکستان آئے اور ایک بیٹا علی حیدر پیدا ہوا۔

درخواست گذار کے وکیل نے بتایا کہ عدالتی حکم کے باوجود وفاقی وزارت داخلہ نے بیوی کو پاکستانی شہریت نہیں دی۔انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پاکستانی شوہر عبدالرحمن کی ساس شدید بیمار ہیں تین برس بعد وہ اپنی بیوی کو اس کی والدہ سے ملانے کیلئے ائیرپورٹ گئے،سفری دستاویزات مکمل ہونے کے باوجود بیوی کو آف لوڈ کیا گیا۔لہذا عدالت کارروائی کرے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments