لیاقت بلوچ کی انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں المناک واقعہ کے بعد لاہور میں علمائے کرام اوروفود سے ملاقات

اسلام آباد فساد ، ہنگامہ اور پرامن مثبت تعمیری پروگرام پر حملہ طلبہ یونینز کی بحالی کے خلاف سازش ہے ۔ عدلیہ ، سیاسی جمہوری جماعتیں اور طلبہ جمہوری حقوق کی بحالی کے حق میں ہیں لیکن ریاستی اداروں اور سیاست و جمہوریت کی چھتری تلے مخصوص مائنڈ سیٹ اور جاگیردار ، سرمایہ دار ، نو دولتیے نئی ، آزاد ، صاف ستھری قیادت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان

ہفتہ دسمبر 23:10

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 14 دسمبر2019ء) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے انٹر نیشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں المناک واقعہ کے بعد لاہور میں علمائے کرام اوروفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ اسلام آباد فساد ، ہنگامہ اور پرامن مثبت تعمیری پروگرام پر حملہ طلبہ یونینز کی بحالی کے خلاف سازش ہے ۔ عدلیہ ، سیاسی جمہوری جماعتیں اور طلبہ جمہوری حقوق کی بحالی کے حق میں ہیں لیکن ریاستی اداروں اور سیاست و جمہوریت کی چھتری تلے مخصوص مائنڈ سیٹ اور جاگیردار ، سرمایہ دار ، نو دولتیے نئی ، آزاد ، صاف ستھری قیادت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ۔

اسلام آباد میں پرامن تعلیمی تعمیری پروگرام پر دہشتگردی ، بے گناہ طالبعلموں کے قتل اور کئی طلبہ کے زخمی ہونے کے باوجود وفاقی حکومت کی پراسرار خاموشی جانبداری اور سنگ دلی ہے ۔

(جاری ہے)

اسلامی جمعیت طلبہ ملک گیر واحد منظم اور پاپولر تنظیم ہے ۔ دو قومی نظریے اور پاکستان کے اسلامی نظریاتی کردار کی مخالف قوتیں اسلامی جمعیت طلبہ کا راستہ لسانی ، علاقائی اور تعصب پر مبنی گروہوں سے روکنا چاہتی ہیں یہ قومی سلامتی کے خلاف سنگین جرم ہے ۔

لیاقت بلوچ نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی کرنا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے ۔ علما ئے کرام سود کے خاتمے ، اسلامی معاشی نظام اور معاشرہ میں انتہا پسندی ، شدت ، انتقام اور نفرتوں کے بڑھتے رجحان کے حوالے سے خطابات جمعہ میں عوا م کو اسباب اور حل سے آگاہ کریں ۔ ڈاکٹرز ، وکلا کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافی ماحو ل کے خاتمہ کے لیے وکلا اور ڈاکٹرز کی سینئر قیادت حل تلاش کرے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان حکومت ، صوبائی حکومتوں ، ڈاکٹرز ، وکلا کے درمیان مفاہمت اور ضابطہ اخلاق بنوا دیں تو یہ دیرپا ہوگا ۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments