اقراء کائنات کے قتل کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لے، کاشانہ لاہور کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کا چیف جسٹس کے نام کھلا خط

ہفتہ فروری 00:08

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 فروری2020ء) کاشانہ لاہور کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام ایک کھلے خط کے ذریعے استدعا کی ہے کہ اقراء کائنات کے قتل کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن لے تاکہ درجنوں بچیوں کو اقراء کائنات بننے سے بچایا جاسکے۔ افشاں لطیف نے چیف جسٹس کے نام کھلے خط میں لکھا کہ 5 فروری 2020ء کو اقراء کائنات یہ دنیا چھوڑ گئی۔

لیکن اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گئی۔ اس کی پر اسرار موت اب تک معمہ ہے۔ 29 نومبر 2019ء کاشانہ سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد اقراء کائنات سسرال سے پر اسرار طور پر غائب ہو گئی تھی۔ بعدازاں اقراء کائنات کو میڈیا پر لا کر میرے خلاف بیان دلوایا گیا اس کے بعد پھر وہ غائب ہوگئی۔

(جاری ہے)

پولیس ریکارڈ کے مطابق 16 دسمبر 2019ء کو پولیس کو اطلاع ملی کہ اقراء کائنات سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق اقراء نے بیان دیا کہ میں نے یعنی افشاں لطیف نے زبردستی اس کی شادی عابد نامی شخص سے کردی۔ جس نے تشدد کرتے ہوئے اسے زہریلا کیمیکل پلا دیا۔ یاد رہے کہ اقراء کے خاوند عابد کی دو سگی بہنیں بھی کاشانہ کی ہی رہائشی تھیں اور شادی ادارے کے تمام پروٹوکول کو پورا کر کے کی گئی۔ جس کا ریکارڈ موجود ہے۔ اقراء کے قتل کے بعد پولیس نے اقراء کے خاوند کو گرفتار یا شامل تفتیش نہیں کیا اور یہ بھی ایک معمہ ہے کہ سسرال سے غائب ہونے اور میرے خلاف بیان دینے کے بعد اقراء کائنات چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں کس کی تحویل میں تھی اور موت کے بعد اقراء ایدھی سنٹر میں پائی گئی۔

میرے خلاف بیان دینے اور اپنے موت تک کا وقت اقراء کہا رہی اس کو سامنے کیوں نہ آنے دیا گیا۔ اس کو کہا رکھا گیا۔ اس بارے میں کوئی معلومات کیوں نہیں اور اس کے انتقال کے بعد اس کو لاوارث قرار دے کر دفنانے کی تیاریاں کیوں کی جا رہی تھیں۔ جبکہ کے اس کے شوہر کے خلاف زہریلا کیمیکل پلا کر مارنے کی کوشش کی ایف آئی آر درج ہو چکی تھی۔ بعدازاں شوروغوغا پر نعش کا پوسٹمارٹم کرایا گیا تو اب تک پوسٹمارٹم کی رپورٹ کو پبلک کیوں نہیں کیا گیا۔

افشاں لطیف نے خط میں الزام لگایا کہ کائنات کہ اگر اغواء اور قتل میں سیاسی شخصیات اور سرکاری افسران شامل ہیں اور قتل سے پہلے اقراء کو میرے خلاف استعمال کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ تاکہ میری زبان بندی ہو سکے اور کاشانہ کے اصل حقائق سامنے نہ آسکے مجھے ڈر ہیں کہ ان بچیوں کو بھی کائنات کی ماند موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا۔ جنہوں نے کاشانہ میں ہونے والے مکروہ دھندہ کے بارے میں گواہی دی تھی۔ کیونکہ گواہی دینے والی بچیاں اب کاشانہ میں موجود نہیں ہے۔ افشاں لطیف نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ اقراء کائنات قتل کیس کا از خود نوٹس لے کر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ تاکہ دیگر درجنوں بچیوں کو کائنات بننے سے بچایا جاسکے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments