حکومت کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے عوام باہر نہ نکلیں،

بیمار ، ضعیف اور کرونا وائرس کے مشتبہ افراد مساجد میں نہ آئیں گھروں میں رہ کر ہی ذکر اذکار اور استغفار کا اہتمام کریں،پاکستان علماء کونسل، دارالافتاء پاکستان اور ملک بھر کے علماء و مشائخ کی اپیل

جمعرات مارچ 23:47

لاہور۔26 مارچ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 مارچ2020ء) پاکستان علماء کونسل، دارالافتاء پاکستان اور ملک بھر کے علماء و مشائخ نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ گھروں سے باہر نہ نکلیں،گھروں میں رہ کر ہی ذکر اذکار اور استغفار کریں۔حکومت کی جانب سے دی جانے والی ہدایات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔بیمار ، ضعیف اور کرونا وائرس کے مشتبہ افراد مساجد میں نہ آئیں۔

جن افراد کو وزارت صحت مساجد میں جانے سے منع کررہی ہے ان افراد کو مساجد میں نہیں آنا چاہئے۔ یہ بات چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ، پیر نقیب الرحمان ، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا محمد خان لغاری ، قاری جاوید اختر قادری ، مولانا محمد حنیف بھٹی ، علامہ سید سجاد نقوی ، علامہ غلام اکبر ساقی ، علامہ عبدالحق مجاہد، مولانا محمد رفیق جاری ، مولانا نعمان حاشر ، قاضی مطیع اللہ سعیدی ، علامہ عبدالکریم ندیم ، مولانا اسد اللہ فاروق ، مفتی محمد عمر فاروق، مولانا ابوبکر صابری ، مولانا اسد زکریا قاسمی ، مولانا محمد نواس ، مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن ، مولانا عمار بلوچ ، مولانا سید محمد یوسف شاہ،علامہ طاہرالحسن، قاری عصمت اللہ معاویہ ، مولانا اسید الرحمٰن سعید ، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا محمد اشفاق پتافی ، مولانا حسین احمد درخواستی، مولانا زبیر عابد، مولانا یاسر علوی و دیگر نے نماز جمعہ کے حوالے سے مشترکہ بیان میں خصوصی ہدایات دیتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

قائدین نے آئمہ ، خطباء ، علماء و مشائخ سے اپیل کی ہے کہ اس نا گہانی صورتحال کے پیش نظر پوری قوم کثرت سے استغفار کرے ، آیت کریمہ ، درود شریف کا مسلسل وردکیا جائے اور حسب استطاعت صدقات و خیرات کریں۔ہر مسلمان صلوٰة توبہ کے نوافل ادا کرے اور خود کو اللہ کریم کے سامنے سرنڈر کرتے ہوئے اپنے گناہوں کی توبہ کرے۔ بزرگ اور مریض نماز جمعہ کے لئے مساجد میں نہ جائیں گھر پر ہی نماز ادا کریں۔

ٰکرونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز نے تشویش ناک صورتحال پیدا کردی ہے، رجوع الی اللہ اور احتیاطی تدابیراختیار نہ کرنے سے صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے، اس لئے ہر شہری احتیاطی تدابیر اور علماء کی رائے پر عمل کرے۔ عوام الناس لاک ڈاون کی مکمل پابندی کریں۔ نماز جمعہ کے لئے آنے والوں کو مساجد میں داخل ہونے سے قبل سینی ٹائزر لگایا جائے، مساجد سے قالین اور چٹائیاں فوری طور پر اٹھا دی جائیں، مساجد کی سطح پرغریبوں اور دیہاڑی دار افراد کی امداد کے لئے کھانے پینے کی اشیاء کے پیکج بنائیں جائیں۔

علماء وزارت صحت کی ہدایات کی روشنی میں عوام الناس کی لمحہ بہ لمحہ رہنمائی کررہے ہیں، ان پر عملدرآمد کیا جائے۔ حالات کی نزاکت کے پیش نظر اس مرتبہ بھی جمعتہ المبارک کے اجتماعات میں اردو تقریر ختم کر کے عربی خطبات کو مختصر کر دیا جائے۔مساجد میں صفوں کے درمیان فاصلہ رکھا جائے۔ مساجد میں نماز باجماعت فرش پر ادا کرنے کا اہتمام کیا جائے اور نماز کی ادائیگی سے قبل اگر سرف یا صابن سے فرش کو دھو لیا جائے تو بہتر ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ غیرذمہ دارانہ رویہ آپ کو اور دوسروں کو اس وباء کا شکار بنا سکتا ہے لہذا ہر شہری ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور اس وبا کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس نازک صورتحال میں اپنے ارد گرد محنت کش، دیہاڑی دار اور ضرورت مندوں کا خیال رکھیں، ایسا نہ ہوکہ کسی کے پاس کھانے کو راشن بھی نہ ہو۔

متعلقہ عنوان :

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments