سیکرٹری زراعت پنجاب کا ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آبادکا دورہ، جاری زرعی تحقیقاتی سرگرمیوں کے متعلق بریفنگ

فصلوں کی ایسی اقسام کی دریافت کی جائیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کو برداشت کرنے کے ساتھ زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل ہوں، واصف خورشید

پیر ستمبر 23:58

لاہور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 21 ستمبر2020ء) زرعی تحقیق کے ثمرات کاشتکاروں تک پہنچنا ضروری ہیں، فصلوں کی ایسی اقسام کی دریافت پر توجہ دی جائے جوجاری موسمیاتی تبدیلیوں کو برداشت کرتے ہوئے زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل ہوں۔ یہ بات سیکرٹری زراعت پنجاب واصف خورشید نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میںشعبہ ریسرچ کی کارکردگی کیلئے منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران کہی۔

اجلاس میں ڈاکٹر عابد محمود ڈائریکٹر جنرل زراعت (ریسرچ) ، ڈاکٹر ساجد الرحمن ڈائریکٹر (ریسرچ)، ڈاکٹر محمد اختر ڈائریکٹر شعبہ دالیں، چوہدری محمد رفیق ڈائریکٹر رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کالا شاہ کاکو، محمد نجیب اللہ ڈائریکٹر سبزیات، محمد آفتاب ڈائریکٹر شعبہ تیلدار اجناس ا ورآصف علی ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ انفارمیشن کے علاوہ دیگر زرعی سائنسدانوںنے شرکت کی۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر عابد محمود ڈائریکٹر جنرل زراعت (ریسرچ)نے سیکرٹری زراعت پنجاب واصف خورشید کو ادارہ ہذٰا میںجاری زرعی تحقیقی پروگرامز بارے بریفنگ دینے کے علاوہ زرعی تحقیق کے حوالے سے درپیش مسائل سے بھی آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ ادارہ ہذٰا کے زرعی سائنسدان موسمیاتی تبدیلیوں اور زیادہ پیداواری صلاحیت کی حامل نئی اقسام کی تیاری پر تحقیق کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیںاور کاشتکاروں کو زیادہ پیداواری صلاحیت رکھنے والی جدید ٹیکنالوجی کی حامل اقسام کی فراہمی کیلئے مختلف منصوبہ جات پر عملدرآمدجاری ہے تاکہ کاشتکاروں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے ساتھ کم پیداواری لاگت آئے ۔

اس موقع پرسیکرٹری زراعت پنجاب نے کہا کہ گندم ، پھلوں،سبزیوں اور دالوں کی نئی اقسام پر تحقیق کے عمل میںمارکیٹ کی طلب کو مد نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔سیکرٹری زراعت نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ میں گندم کا ریسرچ سٹیشن بنانے کی تخویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اقدامات کرنے اور زیروٹیلج و کھڑی کپاس میں گندم کی کاشت اور بیڈ سوئنگ کے ٹرائل لگانے کی ہدایت کی ۔

سیکرٹری زراعت نے مزید کہا کہ ایسی اقسام تیار کی جائیں جوکمرشل لحاظ سے زیادہ موزوں ہو ں، گندم کی کنگی سے متاثرہ اقسام کی کاشت کو روکنے اور قوت مدافعت وزیادہ پیداوار والی اقسام کی کاشت کو فروغ دینے کے ساتھ گندم کے بیج کی دستیابی اور فائونڈیشن سیڈ سیل کے قیام کو یقینی بنانے کے بارے میں بھی ہدایات جاری کیں۔انہوں نے دالوں خاص طورپرمسوراور ماش کی پیداوار میں اضافہ کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا۔

واصف خورشید نے ڈائریکٹرجنرل زراعت (ریسرچ ) ڈاکٹر عابد محمودکو پنجاب سیڈ کارپوریشن کے ساتھ مل کر مسور اورماش کے بیج کے بارے میں ماسٹرپلان تیار کرنے اور سبزیات کے ہائبرڈ بیج کی تیار ی پر بھی زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹنل میں سبزیات خاص طورپر ٹماٹر کی کاشت کے ساتھ اس کے پلپ کی تیاری کے لیے کاشتکاروں کوفنی معاونت فراہم کی جائے۔ بعد ازاںسیکرٹری زراعت نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ کے شعبہ گندم کی سیریل ٹیکنالوجی ،شعبہ کپاس کی فائبر ٹیسٹنگ ، سائل فرٹیلیٹی ،سی اے، پوسٹ ہارویسٹ ریسرچ سنٹر ، ایگری بائیو ٹیکنالوجی کی (آئی ایس او) سرٹیفائیڈ لیبارٹریز کے علاوہ شعبہ سبزیات اور تیل دار اجناس کے ریسرچ ایریا کادورہ بھی کیا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments