ہائیکورٹ نے 5 افراد کو قتل کرنے کے الزام میں موت کی سزا پانے والے دوقیدیوںکو وقوعہ کے نوسال بعدبری کردیا

بدھ جنوری 19:04

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جنوری2021ء) لاہورہائیکورٹ نے 5 افراد کو قتل کرنے کے الزام میں پانچ ، پانچ مرتبہ موت کی سزا پانے والے دوقیدیوںکو وقوعہ کے نوسال بعدبری کردیا ۔ لاہورہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس شہرام سرور چوہدری پر مشتمل دو رکنی بنچ نے عمران جاوید اور نیامت علی کی بریت کی درخواستوں پر سماعت کی ۔

دورکنی بنچ نے عدم ثبوت اور گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت نہ ہونے پر دونوںکو بری کرنے کا حکم سنایا۔پولیس نے چار اکتوبر دوہزار گیارہ کو محمد گلزار ،محمد ارشاد سمیت پانچ افراد کو قتل کرنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔۔ سزائے موت کے قیدیوں کی جانب سے وکیل صفائی نے بریت اپیل میں موقف اختیار کیا کہ پولیس نے پانچ افراد کے قتل کے الزام میں دس افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

(جاری ہے)

سزائے موت کے بری ہونے والے قیدیوں کے خلاف تھانہ بلوچنی ،فیصل آباد میں پانچ افراد کو قتل کرنے کامقدمہ درج ہوا۔ملزمان پر جڑوانوالہ تانگے پر کچہری جاتے ہوئے پانچ افراد کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا ۔تین مرکزی ملزمان دوران ٹرائل قتل کر دیئے گئے۔ تانگہ مالک کا بیان بھی پراسکیوشن کو سپورٹ نہیں کرتا، چشم دید گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت نہیں ہوتی ۔

ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باوجود ٹرائل کورٹ نے دونوں ملزمان کو پانچ ،پانچ مرتبہ سزائے موت سنادی ۔وکیل صفائی نے استدعا کی کہ عدالت ٹرائل کورٹ کی جانب سے سزائے موت دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے سزائے موت کے قیدیوں کی بریت اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا کہ سزائے موت کے قیدی پولیس تفتیش اور میڈیکل رپورٹ میں قصور وار ثابت ہوئے ہیں۔ ٹرائل کورٹ نے وکلا ء کے دلائل ، پولیس تفتیش اور میڈیکل رپورٹ کو مدنظر رکھ کر میرٹ پر سزائے موت سنائی۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments