تعلیمی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ایل ڈی اے انقلابی اقدامات کر رہا ہے‘ ایس ایم عمران

رہائشی پلاٹوں پر تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لئے پلاٹوں کی کمرشلائزیشن فیس آدھی کر دی گئی ہے اور فیس قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت مہیا کی گئی ہے

بدھ جنوری 19:04

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جنوری2021ء) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئرمین ایس ایم عمران نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر تعلیمی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے ایل ڈی اے انقلابی اقدامات کر رہا ہے۔رہائشی پلاٹوں پر تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لئے پلاٹوں کی کمرشلائزیشن فیس آدھی کر دی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں کو کمرشلائزیشن فیس قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔

کمرشلائزیشن فیس کی قسطیںدوکی بجائے تین سال میں جمع کروانے کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں کی طرف سے کمرشلائزیشن فیس اکٹھی جمع کروانے کی صورت میں اس پرپانچ فیصد چھوٹ دی گئی ہے۔پرائیویٹ رہائشی سکیموں میں سکولوں کے لئے مختص پلاٹوں کا لینڈ یوز کسی بھی صورت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتااور تعلیمی اداروں کے لئے مختص پلاٹ کسی اور مقصد کے لئے استعمال نہیں کئے جاسکتے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ ایل ڈی اے لینڈ یوز رولز/ریگولیشنز2020ء کی منظوری کے بعد اب ایل ڈی اے سے ماسٹر پلان کے رہائشی زون میں پرائمری سکول،ہائر سیکنڈری سکول،کالج اور یونیورسٹی کے قیام کی اجازت حاصل کی جاسکتی ہے۔ڈے کیئر سنٹر اور پری سکول10مرلے اور30فٹ چوڑی سڑک پر، پرائمر ی سکول ایک کنال زمین اور30فٹ چوڑی سڑک،ہائیر سیکنڈری سکول4کنال اراضی اور40فٹ چوڑی سڑک جبکہ کالج/یونیورسٹی محکمہ تعلیم اورہائر ایجوکیشن کمیشن کے طے کردہ معیار کے مطابق بنائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شیخوپورہ ،قصور اور ننکانہ صاحب میں کاروبارکی حوصلہ افزائی کے لئے سڑک کی چوڑائی کم از کم 20فٹ کر دی گئی ہے اور واسا،ٹیپا کے این او سی کی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی مقاصد کے لئے اس وقت جن جائیدادوں کا عارضی کمرشل استعمال کیاجا رہا ہے وہ 2024ء سے پہلے لینڈ یوز رولز2020ء کے قابل اجازت(پرمیسی بل)استعمال(کنورژن)کے تحت اپنی پراپرٹی کی مستقل طور پر منظوری حاصل کرسکتے ہیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments