پولیس کی بھرتیوں پر پابندی کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہوا، چھوٹو گینگ کو پہلے ہی ختم کر دیا جاتاتوگینگ مضبوط نہ ہوتا‘پرویز الٰہی

عطا ء تارڑ اور ان کے ساتھیوں نے تھانے پر حملہ کیا، یہ رویہ تبدیل ہونا چاہیے، ہم نے ذمہ داروں کے خلاف پرچہ درج کرایا ہے ‘وزیر قانون کرائم ریٹ کی بنیادی وجہ سے پولیس افسران مقدمہ درج کرتے ڈرتے رہے، ہم پولیس کو پیشہ وارانہ کام کرنے کا جو موقع دے رہے ہیں وہ پہلے نہیں دیا گیا‘راجہ بشارت

پیر 26 جولائی 2021 23:01

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 26 جولائی2021ء) اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ پولیس کی بھرتیوں میں10سال پابندی رہی جس سے جرائم میں اضافہ ہوا، پولیس پر کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا گیا، اگر چھوٹو گینگ کو پہلے ہی ختم کر دیا جاتاتوگینگ مضبوط نہ ہوتا۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 33 منٹ کی تاخیر سے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی صدارت میں شروع ہواجس میں محکمہ داخلہ کے حوالے سے سوالات کیے گئے ۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن رکن اسمبلی طاہر پرویز کے پٹرولنگ پوسٹوں کے حوالے سے سوال پرسپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ پولیس کی بھرتیوں پر دس سال سے پابندی رہی جس کی وجہ سے جرائم بڑھا، اب پنجاب بھر میں پولیس کی بھرتیاں کی جا رہی ہیں، فیصل آباد کی آبادی کے تناسب سے پولیس بھرتی میں اضافہ ہونا چاہیے ، اگر چھوٹوں گینگ کو قائم کرنے سے پہلے ہی ختم کر دیاجاتاتو گینگ مضبوط نہ ہوتا، پولیس کی کمی اور پیٹرولنگ نہ ہونے سے چھوٹوگینگ نے بنکرز بنائے، (ن) لیگ دور میں چھوٹو گینگ کے خاتمے کیلئے فوج بلائی گئی تھی، دس دس سال ہوگئے پنجاب میں پولیس پر کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا گیا۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ممبران کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ عطا ء تارڑ اور ان کے ساتھیوں نے تھانے پر حملہ کیا، پولیس والوں کی وردیاں پھاڑ دیں،یہ رویہ تبدیل ہونا چاہیے، ہم نے ذمہ داروں کے خلاف پرچہ درج کرایا ہے موجودہ آئی جی پنجاب نے تھانوں کی مرمت کا سال قرار دیا ہے، اس سال تھانوں کی تعمیر و مرمت کی جائے گی، کرائم ریٹ کی بنیادی وجہ سے پولیس افسران مقدمہ درج کرتے ڈرتے رہے، ہم پولیس کو پیشہ وارانہ کام کرنے کا جو موقع دے رہے ہیں وہ پہلے نہیں دیا گیا، ایک طویل عرصے بعد موجودہ حکومت نے پولیس کو نئی گاڑیاں فراہم کی ہیں،بزدار حکومت صوبہ بھر میں 97 نئی پٹرول پوسٹیں قائم کر رہی ہے،اشتہاریوں کی گرفتاری کے لیے صوبہ بھر میں باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے،اشتہاریوں کی گرفتاری کے لیے آئی جی ہر ماہ رپورٹ لیتے ہیں،اشتہاریوں کے خلاف ناقص کارکردگی پر ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے،جن مدارس کا وفاق المدارس کے ساتھ الحاق نہیں ہوتا انکی رجسٹریشن نہیں کی جاتی،رواں مالی سال کے دوران پولیس افسران کی رہائش گاہوں کے لیے کوئی بجٹ نہیں رکھا گیا۔

وقفہ سوالات کے فوری بعد (ن )لیگ کی رکن اسمبلی زیب النساء اعوان نے کورم کی نشاندہی کردی ۔کورم پورا نہ ہونے پر سپیکر نے اجلاس 29جولائی دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردیا ۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments