ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت فنڈز کی فراہمی اور منصوبہ جات کا انتخاب خالصتاًعوامی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائیگا‘ ہاشم جواں بخت

جس ضلع میں جو سہولیات درکار ہوں گی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ترجیحی بنیادوں پر مہیا کی جائیں گی‘وزیرخزانہ پنجاب کا اجلاس سے خطاب

منگل 21 ستمبر 2021 00:13

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 ستمبر2021ء) ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت فنڈز کی فراہمی اور منصوبہ جات کا انتخاب خالصتاًعوامی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا، جس ضلع میں جو سہولیات درکار ہوں گی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ترجیحی بنیادوں پر مہیا کی جائیں گی، اس مقصد کے لیے اربن ڈویلپمنٹ یونٹ کی سپیشل سٹریٹجی رپورٹ سے بھی استفادہ کیا جائے گا، متعلقہ اضلاع سے عوامی نمائندگان مسائل کی نشاندہی اور سہولیات کی نچلی سطح تک فراہمی کے لیے معاونت مہیا کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ میں محکمہ ہائر ایجوکیشن کے ترقیاتی منصوبہ جات بالخصوص یونیورسٹیوں کے قیام کے حوالے سے منصوبہ جات میں پیش رفت کے جائزہ اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر نے کہا کہ یونیورسٹیوں کے قیام کے لیے چارٹرڈ کی منظوری اور دیگر وقت طلب معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان منصوبہ جات کو ترجیح دی جائے جنھیں دو سال میں مکمل کیا جا سکتا۔

جن اضلاع میں پہلے سے یونیورسٹی سطح کی تعلیم اور ڈگری کالجز کی سہولیات موجود نہیں وہاں پہلے کالجز اور یونیورسٹی کی سہولت مہیا کی جائے۔ جن اضلاع میں پہلے سے موجود انفراسٹریکچر کو اپ گریڈ کیا جا سکتاوہاں اپ گریڈیشن کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے۔ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان سے پنجاب حکومت کا مقصد تمام اضلاع کو ترقی کے یکساں مواقع مہیا کرنا ہے جس کے لیے تمام اضلاع میں تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات کی موجودگی ضروری ہے۔

صوبائی وزیر نے محکمہ ہائر ایجوکیشن کو ہدایت کی کہ یونیورسٹیوں کے قیام تک نزدیکی اضلاع میں طلبہ و طالبات کی جامعات تک آسان رسائی کے لیے ٹرانسپوٹییشن کے مسائل پر بھی نظر ثانی کی جائے۔ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن نے اجلاس کوسالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل 88کالجز اور 9یونیورسٹیوں کے قیام کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ میانوالی، چکوال، بھکر، راولپنڈی، کہسار، حافظ آباد میں یونیورسٹیوں کے قیام سے متعلق معاملات تکمیلی مراحل میں ہیں اس کے علاوہ ڈی جی خان میں پہلے سے موجود کالج کو وویمن یونیورسٹی کا درجہ دیا جا رہا ہے۔

بھکریونیورسٹی کی منظوری لی جا چکی ہے جبکہ تھل یونیورسٹی کے لیے چارٹرڈ منظوری کے لیے اسمبلی میں پیش کیا جا چکا ہے۔ صوبائی وزیر نے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کو ہدایت کی کہ وہ جامعات کے قیام کے منصوبہ جات میں تاخیر کا سبب بننے والے عوامل سے آگاہ کریں تاکہ ان کا تدارک کیا جا سکے مزید براں جو منصوبہ جات 2سے اڑھائی سال میں مکمل ہو سکتے ہیں ان کے لیے درکار فنڈز کی مرحلہ وار تفصیلات سے بھی آگاہ کریں تاکہ منصوبہ جات کی بروقت تکمیل کے لیے فنڈز کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

متعلقہ عنوان :

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments