نوازشریف کا جعلی کورونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ پاکستان کے خلاف سازش تھی‘ڈاکٹر شہباز گل

مریم نواز ، عمران نذیر اور چوہدری شہباز نے مل کر سازش تیار کی،کورونا ڈیٹا بیس کو بدنام کرنے کیلئے ڈرامہ رچایا گیا ڈان لیکس سے لے کر ویکسین لیک تک ہر سازش کا کھرا مریم نواز تک جاتا ہے‘معاون خصوصی کی پریس کانفرنس

ہفتہ 25 ستمبر 2021 23:19

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 ستمبر2021ء) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کا لاہور میں جعلی کورونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ بننا پاکستان کے خلاف سازش ہے، ڈان لیکس سے لے کر ویکسین لیک تک ہر سازش کا کھرا مریم نواز تک ہی جاتا ہے،نوید نامی شخص کو مریم نواز نے یہ ذمہ داری دی، مریم نواز ، عمران نذیر اور چوہدری شہباز نے مل کر یہ سازش تیار کی،کورونا ڈیٹا بیس کو بدنام کرنے کیلئے جعلی سرٹیفکیٹ کا ڈرامہ رچایا گیا، سیاست میں گندی سوچ رکھنے والوں نے ملک کے مستقبل کے بارے میں نہیں سوچا، ملکی سلامتی کے خلاف سازش کرنے والوں کو جواب دینا پڑے گا، ڈان لیکس پر اگر این آر او نہ دیا جاتا تو آج یہ حالات نہ ہوتے۔

وہ گورنر ہائوس لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ جعلی انٹری کروانے والا ایک ملزم عادل رفیق کوٹ خواجہ سعید ہسپتال میں ملازم ہے جسے ایم پی اے چوہدری شہباز نے 2015 میں ہسپتال میں بھرتی کروایا تھا جبکہ ابو الحسن کو 2017میں بھرتی کروایا گیا جو دونوں تھانہ گجر پورہ میں زیر حراست ہیں اور ایف آئی اے بھی ان سے تحقیقات کرے گی جبکہ تیسرے کریکٹر نوید کو بھی جلد جرمنی سے واپس لایا جائے گا۔

شہباز گل نے کہا کہ جعلی ویکسینیشن کی خبر سب سے پہلے (ن)لیگ نے میڈیا کو دی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کو خراج تحسین کرتا ہوں جنہوں نے اس معاملہ کوبے نقاب کیا۔شہبازگل نے کہا کہ وہ اگلی بار سستے بازار کمپنی کا سکینڈل لے کرآئیں گے کہ وہ کیسے کمپنی کی چیزوں اور ملازمین کو استعمال کرتے رہے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پیسے اکائونٹس سے کیسے نکلے وہ نہیں جانتے،یہاں روز محشر لگا ہوا ہے کہ باپ بیٹے کو نہیں پہچان رہا اور بیٹا باپ کو۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے توشہ خانہ کا قانون بنا دیا ہے ،جس کو تحفہ ملے وہ کم از کم 50فیصدرقم دے کر اسے ایشو کروائے گا۔شہباز گل نے کہا کہ جب تحریک انصاف کی بنیاد ڈالی گئی تو اصل نظریہ ہی انصاف کا بول بالا تھا۔انہوں نے کہا کہ جب کورونا نے پوری دنیا پر اپنے پنجے گاڑے تو پوری دنیا سہمی ہوئی تھی اس کا پوری دنیا میں کسی کو پتہ نہیں تھا کہ اب اس کا علاج کیا ہے، ہر ایک نے اپنے اپنے طور پر کوشش کی، پاکستان میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں تھا جو مکمل طور پر لاک ڈائون کے حق میں نہ تھا،صرف ایک شخص مکمل لاک ڈائون کے خلاف تھا جس کا نام عمران خان تھا۔

ہماری مکمل کابینہ، اپوزیشن، میڈیا مکمل لاک ڈاون کا کہہ رہے تھے،دنیا کے پانچ بہترین ممالک ہیں جنہوں نے کورونا کا مقابلہ کیا ان میں سے ایک پاکستان ہے،حکومت نے مشکل حالات میں بھی ویکسین ختم نہیں ہونے دی، معاشرے کے سب سے زیادہ حساس طبقہ بزرگوں کی مکمل ویکسین ہو گئی۔انہوں نے کہا کہ زر مبادلہ جو ہمارا مزدور بیرون ملک مزدوری کرکے بھیجتا ہے ان کو اپنے ملک آنے جانے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس معاشرے کے اندر موجودسیاسی کاکروچوں نے نہ ملک کے وقار کا سو چا نہ عزت کا اور اب انہوں نے پھر سے ایک گھٹیا کھیل کھیلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف پورا ملک ایک فرنٹ پر لڑ رہا ہے کہ ہمیں ریڈ لسٹ سے نکالا جائے، ایسے وقت میں ملک کے نظام کو اور کورونا کے ڈیٹا بیس کو بدنام کرنے کے لئے اپنے بھرتی کرائے ہوئے لوگوں کے ذریعے یہ سازش رچائی گئی، میڈیا کے اندر مسلم لیگ (ن) کی طرف سے یہ خبر فیڈ کی گئی، کون سا ایسا ادارہ ہے جس نے جعلی ویکسین انٹری کی خبر نہیں لگوائی، وہی نواز شریف جس نے الحمد سے ملاقات کی، اسی نواز شریف کی بیٹی اور ایم پی ایز نے یہ سازش تیار کی یہ وہی حلقہ ہے جہاں مریم نواز الیکشن لڑنے گئی تھیں،جیسے ہی ویکسین کی انٹری ہو گئی اس کے فوری بعد مریم نواز کا بیان آیا کہ پاکستان میں سب جعل سازیاں ہیں انکے بیان کے بعد بھارتی میڈیا نے کیسے حشر برپا کیا۔

ایک سوال کے جواب میں شہباز گل نے کہا کہ مولانہ فضل الرحمان ہمیشہ اپنے حصے سے زیادہ مانگتے ہیں، پھر ان کی لڑائی ہو جاتی ہے،پی ڈی ایم کے اکٹھا ہونے کے بارے میں یہی کہوں گا کہ ان تلوں میں تیل نہیں ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جو ہم پر کیس کرنے والا شخص ہے وہ کہہ رہا ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کا کیس ہے لیکن میڈیا پر (ن) لیگ نے لگوا دیا کہ فارن فنڈنگ کا کیس ہے اگر اس پر قصوروار بھی پائے گئے تو زیادہ سے زیادہ سزا ہے کہ وہ فنڈنگ ضبط کر لی جائے گی اورد وسرا یہ کہ 2017کے قوانین کے بعد اسے ممنوعہ فنڈنگ قرار دیا گیا۔

ایک اور سوال پر معاون خصوصی نے کہا کہ لوگوں کو رات کو نیند نہیں آتی کہ خونخوار لوگ باہر پھر رہے ہیں لیکن سب کی خواہش اپنی جگہ قانون کا اپنا راستہ ہے۔چیئرمین نیب کے معاملہ پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب ہم حکومت میں نہیں ہوتے تھے تب اپوزیشن نے ہی چیئر مین نیب کو تعینات کیا تھا، فرض کر لیں کہ اگر ان کو ایکسٹینشن دی جاتی ہے تو ہر ایکسٹینشن پر ن لیگ ہنس کر ووٹ دے گی ۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments