سپریم کورٹ آف پاکستان: بلدیاتی اداروں کی بحالی میں تاخیر کی تحقیقات کروانے حکم

سماعت دو ہفتوں تک کیلئے ملتوی، موجودہ اور سابقہ چیف سیکرٹریز سمیت سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب ذاتی حیثیت میں طلب

بدھ 20 اکتوبر 2021 21:05

سپریم کورٹ آف پاکستان: بلدیاتی اداروں کی بحالی میں تاخیر کی تحقیقات کروانے حکم
لاہور (آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو رکنی بینچ نے بلدیاتی اداروں کی بحالی میں تاخیر پر تحقیقات کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے بلدیاتی اداروں کی بحالی سے متعلق حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر لارڈ میئر بلدیہ عظمیٰ لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید نے پنجاب حکومت کے خلاف ایک توہین عدالت کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

جس پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو رکنی بینچ نے بلدیاتی اداروں کی بحالی میں تاخیر کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ سے تمام ریکارڈ طلب کرلیا ہے اور آئندہ سماعت 2 ہفتوں تک کے لئے ملتوی کرتے ہوئے۔ چیف سیکرٹری پنجاب، سابق چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب کو ذاتی حیثیت میں عدالت عظمیٰ پیش ہونے کا حکم جاری کیا ہے دوران سماعت عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دئیے کے پنجاب حکومت یہ سمجھ رہی تھی کہ بلدیاتی ادارے انہوں نے بحال کئے ہیں۔

(جاری ہے)

عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دئیے کہ عدالت اس معاملے کی تحقیقات کروا کر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرئے گی۔ دوران سماعت لارڈ میئر بلدیہ عظمیٰ لاہور بھی عدالت موجود تھے عدالت عظمیٰ نے عدالتی حکم ناموں کی مصدقہ نقول فراہم کرنے کا بھی حکم جاری کیا ہے جبکہ گزشتہ روز سرکاری وکیل نے بلدیاتی اداروں کی بحالی کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا تو نوٹیفکیشن کی ڈرافٹنگ کا نوٹس لیتے ہوئے نوٹیفکیشن کو درست نہ قرار دیا سماعت کے بعد لارڈ میئر بلدیہ عظمیٰ لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید کا کہنا تھا کہ بلدیاتی اداروں کی بحالی کا کیس ایک خوبصورت موڑ اختیار کر گیا ہے جس کا فیصلہ آئندہ مستقبل میں حکومت کے لئے بلدیاتی اداروں پر شب و خون مارنے کے سلسلے میں رکاوٹ کا باعث بنے گا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments