رہنمائوں ، کارکنان کی گرفتاریوں کیخلاف کالعدم تنظیم کے دھرنے ،ٹریفک کا نظام درہم برہم

سڑکیں بند ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا ،اطراف کے علاقوں میں موبائل ،انٹرنیٹ سروس بند رہی ہم مذاکرات میں بیس گھنٹے کی توسیع کابھی اعلان کرتے ہیں ،حکومت کو مطالبات پر عملدرآمد کاموقع دیتے ہیں‘رکن مجلس شوریٰ سرورحسین شاہ احتجاج قانون کے دائرے میںہوا تو کوئی مسئلہ نہیں ،قانون ہاتھ میں لیا گیا تورٹ کو بر قرار رکھنے کیلئے قانون حرکت میں آئیگا‘ترجمان پنجاب حکومت

جمعہ 22 اکتوبر 2021 00:27

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 اکتوبر2021ء) کالعدم تنظیم کی جانب سے رہنمائوں کارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف دھرنے دئے گئے جس کے باعث سڑکیں بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،محکمہ داخلہ کی جانب سے دھرنے کے مقام او رملحقہ علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی ۔تفصیلات کے مطابق کالعدم تنظیم کے رہنمائوں اورکارکنان کی گرفتاریوں کے خلاف مختلف مقامات پردھرنے دیئے گئے۔

کالعدم تنظیم کی جانب سے لاہور میں بھی دھرنا جاری رہا جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا ۔پنجاب حکومت کی جانب سے کسی بھی نا خوشگوار صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ، شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر سکیورٹی الرٹ کردی گئی ہے اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری دھرنے کے چاروں اطراف موجود ہے۔

(جاری ہے)

کالی کوٹھی اقبال ٹائون، سکیم موڑ، سوڈی وال، نیازی اڈا اور سمن آباد موڑ سے راستوں کو خاردار تاروں اور کنٹینرز کی مدد سے سیل کر دیا گیا ۔ کالعدم تنظیم کے دھرنے کے باعث سڑکیں بند ہونے سے ٹریفک کانظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ،ٹریفک جام ہونے سے سڑکوں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیںجس سے شہریوںکو شدید مشکلا ت کاسامناکرنا پڑا ۔محکمہ داخلہ کی جانب سے دھرنے کی جگہ اور اطراف کے علاقوں میںموبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل رکھی گئی ہے جس کی وجہ سے قریبی آبادیوں کے رہائشیوں کو بھی شدید مشکلات درپیش رہیں۔

علاوہ ازیں کالعدم تنظیم نی( آج) بروزجمعہ کواسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کردیاہے جس پر ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے کہا کہ ہم حالات پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر احتجاج آئین وقانون کے دائرے میںہوا تو ہمیںکوئی مسئلہ نہیں اگر قانون کو ہاتھ میں لیا گیا تو حکومت کی رٹ کو بر قرار رکھنے کیلئے قانون حرکت میں آئے گا۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments