نیب ترمیمی آرڈیننس ،احتساب عدالتوں میں بیانات ریکارڈ کرنے کیلئے آلات کی خریداری کاعمل شروع

کمرہ عدالت میں الیکٹرانک سہولیات کی فراہمی تک پرانے طریقہ کار کے تحت ہی بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے

ہفتہ 23 اکتوبر 2021 14:10

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 اکتوبر2021ء) نیب ترمیمی آرڈیننس کے تحت ملک بھر کی احتساب عدالتوں میں ملزمان اور گواہوں کے الیکٹرانک ذرائع سے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے آڈیو اور وڈیو آلات کی خریداری کا عمل شروع ہوگیا ۔ وزارت قانون نے احتساب عدالتوں سے درخواست کی ہے کہ کمرہ عدالت میں الیکٹرانک سہولیات کی فراہمی تک پرانے طریقہ کار کے تحت ہی بیانات ریکارڈ کیے جائیں۔

وزارت قانون نے ملک بھر کی احتساب عدالتوں کے ایڈمن ججز کو خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کا نفاذ 6 اکتوبر2021 کو ہوا، سیکشن 16 میں ترمیم کی گئی ہے ۔ ترمیم کے تحت احتساب عدالتوں میں ٹرائل کا میکنزم طے اور کیس مینجمنٹ کو وضع کیا گیا ہے جس کے تحت گواہوں اور ملزمان کے بیانات الیکٹرانک ذرائع سے ریکارڈ ہونے ہیں۔

(جاری ہے)

نیب ترمیمی آرڈیننس میں یہ سہولت فراہم کرنے کے لیے 6 ماہ کا وقت رکھا گیا ہے۔

وفاقی حکومت یہ سہولت ملک بھر کی احتساب عدالتوں میں فراہم کرنے کے اقدامات کرے گی۔ الیکٹرانک سہولیات کی فراہمی تک احتساب عدالتیں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے پرانے طریق کار کے تحت بیانات ریکارڈ کریں۔سیکرٹری قانون و انصاف کی منظوری سے وزارت قانون کے سیکشن افسر نے راولپنڈی، اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، ملتان، حیدرآباد اور سکھر کی احتساب عدالتوں کے ایڈمن ججز کو خط بھجوائے جن کی نقول ملک بھر کی تمام ہائیکورٹس کے رجسٹرار اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments