ٴْ وحدتِ امت کوئی سیاسی نعرہ یا حربہ نہیں بلکہ قرآن مجید کا حکم ہے، علامہ سید جواد نقوی

لله*امسلمانوں کی اخلاقی تربیت اور شرح صدر کے بغیر وحدت کی کوشش ناکامی سے دوچار ہو گی،سربراہ تحریکِ بیداری

اتوار 24 اکتوبر 2021 18:10

۳لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 24 اکتوبر2021ء) جامعہ عروة الوثقی لاہور میں ہفتہ وحدت و جشن میلاد مسعود نبی کریمﷺ وامام جعفر صادق کی مناسبت سے ایک عظیم الشان وحدت امت کانفرنس بعنوان رحمتہ للعالمین و رحمابینھم منعقد ہوئی جس میں ملک کے تمام مکاتب فکر کے جید علماء اکرام، مذہبی جماعتوں کے سربراہان، مشائخ عظام و اکابرین نے شرکت کی۔

شرکاء میں سینیٹر سراج الحق امیر جماعت اسلامی، قبلہ ایاز صاحب(چیرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان)،پیر نقیب الرحمن (عیدگاہ شاہ شریف)،علامہ سید ضیااللہ شاہ بخاری (امیر متحدہ جمعیت اہل حدیث پاکستان)، علامہ امین شہیدی(سربراہ امت واحدہ پاکستان)، پیر سید چراغ الدین شاہ(جامعہ سراجیہ اسلام آباد)، جناب محمد رضا ناظری کونسلر جنرل جمہوری اسلامی ایران، ڈاکٹر مفتی راغب نعیمی(سربراہ جامعہ نعیمیہ)، مولانا عبد الخبیر آزاد (چیرمین رویت ہلال کمیٹی) و دیگر جید علماء کرام شامل تھے۔

(جاری ہے)

وحدت امت کانفرنس بعنوان رحما بینھم سے خطاب کرتے ہوئے حوزہ علمیہ جامعہ عروة الوثقیٰ کے مدیرِاعلیٰ اور تحریکِ بیداری امتِ مصطفیﷺکے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے فرمایا کہ کانفرنس کا مقصد نبوتِ خاتم کے اہم ترین مقصد یعنی امت سازی کی طرف توجہ مبذول کروانا اور قرآنی بنیادوں پر وحدت کی دعوت دینا ہے جس کا مرکز و محور نظریہ قرآن ہے اور یہ فقط وحدت برائے وحدت یا وحدت برائے اجتماع نہیں ہے بلکہ وحدت برائے تعمیلِ حکمِ قرآن ہے۔

علامہ سید جواد نقوی کا کہنا تھا کہ وحدت چونکہ امت کی ہے لہٰذا وحدت سے قبل امت سازی شرط ہے، جب تک ہم گروہ، مسلک، قبیلہ اور برادری سے بڑھ کر امت کے قالب میں نہیں ڈھل جاتے اس وقت تک وحدت نقصان دہ ہے کیونکہ ایسی غیر تربیت یافتہ جمیعت کو اکٹھا کرنا بجائے خود مصیبت کا باعث بن جائے گا جو آپس میں ناہموار پہلو رکھتی ہوں گی اور ایک دوسرے کو فائدے کی بجائے اذیت دیں گی۔

ایسی ناہموار جمیعت کی اخلاقی تربیت کے بعد ہی ان میں محبت اور بھائی چارہ پیدا ہو گا جو امت سازی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ امت سازی وہ پہلا ہدف اور قدم ہے جس کے ذریعے تمام دینی اہداف کا حصول ممکن ہے جو رسول اللہ ﷺکی تمنا اور آرزو ہیں۔جس طرح ایک بڑھئی نوکیلی اور غیر ہموار لکڑیوں کو تراش خراش کے بعد ایک جیسی شکل میں ڈھالتا ہے اور پھر ان سے مختلف چیزیں بناتا ہے،جب تک وہ لکڑیاں ہموار نہیں ہوں گی اور ان کی نوکیں ملائم نہیں کی جائیں گی ان کو ساتھ رکھ کر ان سے کچھ بھی نہیں بنایا جا سکتا،لکڑیوں کی مفید وحدت کیلئے ان کی نوک پلک سنوارنا اور ان کو ملائم کرنا ضروری ہیں تاکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کوئی نئی چیز بنا سکیں، اسی طرح مسلمانوں کی اخلاقی تربیت اور شرح صدر کے بغیر وحدت کی کوشش کے مقدرمیں ناکامی ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مومنین کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور دشمنوں پر شدید سخت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا مسلمان بدقسمتی سے اپنے ہی مسلمان بھائی کو دشمن سمجھ کر اس پر سخت گیر اور مسلمانوں کے دشمنوں پر مہربان بنا ہوا ہے جس کی وجہ ناقص دشمن شناسی اور تنگ نظری ہے۔جب دشمن شناسی ناقص ہو تو اپنے ہی دشمن لگنے لگتے ہیں اور جب اصل دشمن درمیان سے نکل جائے تو انسان کا سب غیض و غضب اپنوں پر نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔

اس کانفرنس کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ اپنوں کو ساتھ بٹھا کر یہ پیغام دیا جائے کہ تمام تر مسلکی اختلافات کے باوجود مسلمان رسول اللہ ﷺ کی امت ہیں اور آپس میں مہربانی کے حقدار ہیں۔سید جواد نقوی کا کہنا تھا کہ اسلامی فرقوں کے مابین قرآنی وحدت، وایک نئی اسلامی تہذیب کی تشکیل کا پہلا زینہ ہے۔ اسی وجہ سے علمائے کرام پر ضروری ہے کہ وہ مسلم اقوام کے اس معالجے کے بارے میں امت کے شعور میں اضافہ کریں اور وحدت کو اسلام نام محمدی کے ایک ناقابل تردید اصول کے طور پر قبول کریں کیونکہ نئی اسلامی تہذیب کے حصول کا انحصار امت کے اتحاد و اتفاق پر ہے۔

سید جواد نقوی نے اسلامی بیداری کی تحریک کی تقویت کی ضرورت پر تاکیدکرتے ہوئے کہا کہ اسلامی بیداری کے سامنے دشمنوں کی یہ ناکام حرکتیں، اس تحریک کی عظمت و اہمیت کی علامت اور اس کے روزافزوں فروغ اور ہمہ گیری کی نوید ہیں۔اس وقت عالم اسلام کے پاس اپنی قوموں کے مفادات کے تحفظ کے لئے واحد راستہ اسلام کے محور پر اتحاد قائم کرنا اور دشمنوں اور مستکبرین کے سامراجی اہداف کا انکار ہے۔

یہ عظیم مجموعہ جس کا نام امت مسلمہ ہے ، اپنے وجود اور اپنے حقوق کے دفاع کے تمام وسائل سے بہرہ ور ہے۔ عالم اسلام کو آج اپنے عزت وقار کے لئے قدم بڑھانا چاہئے، اپنی خود مختاری کے لئے مجاہدت کرنا چاہئے، اپنے علمی ارتقاء اور روحانی طاقت و توانائی یعنی دین سے تمسک، اللہ کی ذات پر توکل اور نصرت پروردگار پر یقین رکھنا چاہیے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments