ہائیکورٹ نے برطرف سول جج کودس سال بعد بحال کر دیا

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو جبری ریٹائر ،سول جج کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا

منگل 30 نومبر 2021 23:51

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 نومبر2021ء) لاہور ہائیکورٹ نے برطرف سول جج کودس سال بعد بحال کر دیا، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو مس کنڈیکٹ اور کرپشن الزامات پر جبری ریٹائر اور ایک سول جج کو ملازمت سے برطرف کردیا۔لاہور ہائیکورٹ نے محمد خالد فاروق کو سول جج کم مجسٹریٹ کے عہدے پر بحال کردیا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

محمد خالد فاروق کو برطرفی کی تاریخ بیس ستمبر 2011 سے بحال کیا گیا ہے۔سول جج کو سول کورٹ لاہور میں آفیسر آن سپیشل ڈیوٹی تعینات کردیا گیا۔پنجاب سب آرڈینٹ ڈسٹرکٹ جوڈیشری سروس ٹربیونل نے سول جج کی اپیل منظور کی تھی۔،سروس ٹربیونل نے سول جج کو برطرفی کے روز سے بحال کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔

(جاری ہے)

دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ نے کرپشن ، مس کنڈیکٹ کے الزامات ثابت ہونے پر ایڈیشنل سیشن جج محمد عامر حبیب کو جبری ریٹائر کردیا ،ایڈیشنل سیشن جج محمد عامر حبیب اس وقت لیاقت پور میں تعینات تھے،انکوائری اور ذاتی شنوائی کا موقع دینے کے بعد ایڈیشنل سیشن جج محمد عامر حبیب اپنی بے گناہی ثابت نہ کرسکے ،لاہور ہائیکورٹ نے کرپشن و نااہلی الزامات ثابت ہونے پر سول جج عہدے سے فارغ کردیا ۔

سول جج شرافت علی ناصر کو نوکری سے فارغ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، نوٹفکیشن کے مطابق سول جج شرافت علی ناصر کے خلاف 2014 کی کرپشن کی شکایت پر الزامات ثابت ہوئے، شرافت علی ناصر کو قانون کے مطابق وضاحت و دفاع کے تمام مواقع فراہم کیے گئے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>