حکومتی امیدوار کے بغیر این اے 133کے ضمنی انتخاب کا میدان (کل ) لگے گا،انتخابی مہم کا وقت ختم

پیپلزپارٹی کی ریلی پر الیکشن کمیشن کا نوٹس ،پولیس کے روکنے کے باوجودپیپلز پارٹی کی ریلی ،اسلم گل کونوٹس جاری جمشید چیمہ کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر مقابلے کی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں،(ن)لیگ،پیپلز پارٹی میں ون ٹو ون مقابلہ ہوگا رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 40 ہزار 85 ہے،254 پولنگ اسٹیشنز میں سے 21 انتہائی حساس ، 199 حساس قرار دئیے گئے ہیں سکیورٹی کے لیے پولیس اور رینجرز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں،کوئیک رسپانس فورس کے جوان بھی ڈیوٹی پر تعینات ہوں گے

ہفتہ 4 دسمبر 2021 00:11

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 دسمبر2021ء) صوبائی دارالحکومت لاہور کے حلقہ این اے 133کے ضمنی انتخاب کیلئے انتخابی مہم کا وقت ختم ہو گیا ، میدان کل (اتوار) 5دسمبرکو لگے گا،پرویز ملک کے انتقال سے خالی ہونے والی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میںحکمران جماعت تحریک انصاف اپنے نامزد امیدوارجمشید اقبال چیمہ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر پہلے ہی مقابلے کی دوڑ سے باہر ہو چکی ہے جس کے بعد اب مسلم لیگ(ن) او رپیپلز پارٹی میں ون ٹو ون مقابلہ ہوگا، الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخاب کیلئے تیاریاںحتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ(ن) کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کے انتقال سے خالی ہونے والی نشست این ای133پر ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ کل(ہفتہ)5دسمبر کو ہوگی ۔

(جاری ہے)

الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ میں مجموعی طور پر 13 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا جس میں آزاد امیدواروں کی تعداد زیادہ ہے۔ تحریک انصاف نامزد امیدوار جمشید اقبال چیمہ اور کورننگ امیدوار مسرت جمشید چیمہ کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی وجہ سے مقابلے سے باہر ہے اوراصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) او رپیپلزپارٹی کے درمیان ہوگا۔

مرحوم رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک مسلم لیگ(ن) جبکہ اسلم گل پیپلز پارٹی کی طرف سے بطور امیدوار میدان میںہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 40 ہزار 85 ہے،ان میں مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 33 ہزار 558 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 6 ہزار 927 ہے،حلقہ میں مجموعی طور پر 254 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جن میں سے 21 انتہائی حساس اور 199 حساس قرار دئیے گئے ہیں۔

100پولنگ اسٹیشنز مردوں اور 100خواتین کے ہیںجبکہ 54 پولنگ اسٹیشن خواتین اور مردوں کے مشترکہ ہیں۔ترجمان صوبائی الیکشن کمیشن پنجاب ہدی علی گوہر کے مطابق الیکشن والے دن حلقہ این اے 133 میں سکیورٹی کے لیے پولیس اور رینجرز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں،رینجرز کے 730 اہل کار ضمنی انتخاب میں ڈیوٹی پر مامور ہوں گے۔پولیس نے بھی ضمنی الیکشن کیلئے سکیورٹی انتظامات مکمل کرلئے ہیں، ایس ایس پی آپریشنز کی نگرانی میں 06 ایس پیز، 14 ایس ڈی پی اوز فرائض سرانجام دیں گے، 44 ایس ایچ اوز، 52 ڈولفن و پیرو اور 07 کوئیک ریسپانس ٹیمیں تعینات، مجموعی طور پر 02 ہزار سے زائد افسران و اہلکار تعینات ہوںگے۔

، ترجمان پولیس کے مطابق این اے 133 کیلئے 254 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں، اے کیٹیگری کے 22، بی کیٹیگری کے 198 جبکہ سی کیٹیگری کے 34 پولنگ اسٹیشنز شامل۔گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار وویمن ٹائون پ میں سپیشل کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے ۔سی سی پی او لاہور فیاض احمد دیو نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر من و عن عملدرآمد کروایا جائے گا، ایس پیز اور ایس ڈی پی اوز پولنگ اسٹیشنز فزیکلی چیک کریں ، ووٹرز کو مکمل چیکنگ کے بعد پولنگ اسٹیشنز میں داخلے کی اجازت دی جائے، پارکنگ اور پولنگ کیمپوں کو پولنگ اسٹیشنز سے دور بنایا جائے،پولنگ اسٹیشنز کی سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔

فیاض احمد دیو نے حفاظتی حصار، میٹل ڈیٹیکٹرز، واک تھرو گیٹس،بیرئیرز اور خاردارتاروں سمیت دیگر لاجسٹک تیاریوںکو فول پروف بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔علاوہ ازیں پیپلز پارٹی نے حلقے میںریلی نکالی جس کا نوٹس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے پولیس کو ریلی رکوانے کے احکامات جاری کئے ۔پولیس کی کوشش کے باوجود پیپلز پارٹی کی جانب سے ریلی نکالی گئی ۔ ریلی میں وسطی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف،جنرل سیکرٹری حسن مرتضیٰ، مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ، این اے 133سے امیدوار اسلم گل سمیت دیگر رہنمابھی شریک ہوئے ۔ الیکشن کمیشن نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر اسلم گل کو نوٹس جاری کر دیا ہے ۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments