پی ڈی ایم اے نے 18سے 20جنوری بارشوں ،برف باری کی پیشگوئی پر اداروں کو الرٹ جاری کردیا

موسم میں شدت کے نتیجہ میں مری میں راستوں کی بندش بھی متوقع ہے ،تمام ادارے رابطے میں رہیں گے‘ ترجمان

پیر 17 جنوری 2022 23:25

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 جنوری2022ء) پروونشیل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب نے محکمہ موسمیات کی جانب سے آج منگل سے جمعرات تک بارشوں اور برف باری کی پیشگوئی پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کردیا ،موسم میں شدت کے نتیجہ میں مری میں راستوں کی بندش بھی متوقع ہے ۔ ترجمان کے مطابق محکمہ موسمیات کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آج منگل سے جمعرات کے دوران ملک کے مغربی و بالائی علاقوں میں موسم کی صورتحال شدت اختیار کر جائے گی منگل کی رات سے جمعرات تک مری میں برفباری کے امکانات ہیں جبکہ راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم اور منڈی بہا ئوالدین میں ہلکی سے اوسط درجے کی بارش متوقع ہے منگل سے جمعرات تک خوشاب، گجرات، سیالکوٹ، نارووال، گجرانوالہ،حافظ آباد، لاہور اور قصور میں بھی بارش کا امکان ہے ۔

(جاری ہے)

18 سے 20جنوری کے دوران موسم میں شدت کے نتیجہ میں مری میں راستوں کی بندش متوقع ہے ۔موسم میں شدت اور بارشوں کے سبب دھند میں کمی کے بھی واضح امکانات ہیں ۔ ترجمان کے مطابق پروونشیل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے تمام متعلقہ محکموں کو موسم کی شدت کے ساتھ پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے سڑکوں کی بندش کی صورت میں پروونشیل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز فوری طور پر نیشنل ہائی وے اتھارٹیز، محکمہ مواصلات اور ایف ڈبلیو او سے رابطے میں رہیں گی،پسماندہ علاقوں میں ضروری اقدامات قبل از وقت مکمل کیے جائیں گے ،لینڈسلائیڈنگ، برف باری یا اچانک سیلاب کے سبب راستوں کی بندش پر کنٹرول کے لیے متعلقہ اضلاع اور میونسپل ایڈمنسٹریشنز کے ساتھ رابطہ رکھا جائے گا،متاثرہ علاقوں کی جانب سفر کرنے والوں اور سیاحوں کو موسم سے متعلق پیشگی اطلاع دی جائے گی ۔

ترجمان کے مطابقایمرجنسی سروسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کی موقع پر دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا ،متاثرہ علاقوں کی جانب نیشنل اور پروونشیل ہائی ویز پر سفر کرنے والوں کو صورتحال کی سنگینی کی پیشگی اطلاع کے محفوظ مقامات کے لیے متبادل راستوں کی جانب رہنمائی کی جائے گی ،مقامی ادارے مسافروں کی رہنمائی کے فرائض سرانجام دیں گے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments