اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںپنجاب یونیورسٹی سنٹر فار ایکسی لینس ان مالیکیولر بائیولوجی کے زیر ..

پنجاب یونیورسٹی سنٹر فار ایکسی لینس ان مالیکیولر بائیولوجی کے زیر اہتمام تین روزہ بین الاقوامی سمپوزیم اختتام پذیر

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔یکم جنوری۔2016ء)پنجاب یونیورسٹی میں مالیکولر بائیولوجی پر منعقدہ پاکستان کے سب سے بڑے سمپوزیم میں زرعی بائیو ٹیکنالوجی پر تکنیکی سیشن کے دوران قومی اور بین الاقوامی سائنسدانوں نے خشک سالی اور بیمارویوں سے بچاؤ کی حامل فصلوں کی پیداوار اور معیار بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جبکہ صحت کے بائیوٹیکنالوجی ماہرین نے جینیاتی بیماریوں کی بڑھتی ہوئی شرح پر توجہ دینے اور ان کی ابتدائی عمر میں تشخیص پر زور دیاہے۔

وہ پنجاب یونیورسٹی سنٹر فارایکسی لینس ان مالیکیولر بائیولوجی کے زیر اہتمام پاکستان کے سب سے بڑے تین روزہ مالیکیولر بائیولوجی سمپوزیم کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ بین الاقوامی سمپوزیم کے تین دنوں کے دوران ڈاکٹر کوثر عبداﷲ ملک، ڈاکٹر شاہد منصور، ڈاکٹر احمد مختار، ڈاکٹر خرم بشیر، ڈاکٹر نو رالاسلام ، ڈاکٹر صالح میمن ، ڈاکٹر نسیم ، ڈاکٹر الطاف حسین، ڈاکٹر شاہد محمود بیگ، ڈاکٹر شریف مغل، ڈاکٹر فیصل خان، ڈاکٹر اﷲ بخش گنگھڑ نے تکنیکی سیشنز کی صدارت کی۔

(خبر جاری ہے)

مقررین نے کہا کہ سماعت اور نظر کی جینیاتی بیماریوں ، جینیاتی ذہنی معذوری اور دمہ کی بیماری کی ابتدائی تشخیص کیلئے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عذرا محمود نے جلی ہوئی جلد کی سٹیم سیل کے ذریعے مرمت کیلئے کیمب میں ہونے والے کام کے بارے میں بات چیت کی۔اختتامی سیشن کے مہمانان خصوصی چیف ایگزیکٹیو پنجاب زرعی ترقیاتی بورڈ ڈاکٹر نور السلام اور ڈین پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر جاوید اقبال قاضی تھے۔

ڈائریکٹر کیمب ڈاکٹر طیب حسین نے اختتامی سیشن میں شرکت کرنے پر سائنسدانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ انہو ں نے کہا کہ اس سمپوزیم کا بنیادی مقصد ملکی اور غیر ملکی سائنسدانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا تھاتاکہ زراعت اور صحت کے شعبوں میں ریسرچ میں تعاون کیا جاسکے اور ملکی ریسرچ کو نئے خطوط پر استوار کیا جا سکے۔سمپوزیم کے ان تین دنوں کے دوران 36مقالہ جات پیش کئے گئے۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر جاوید اقبال قاضی نے زرعی فصلوں کے معیار اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ انوہں نے کسانوں کے مسائل کو سمجھنے اورعام آدمی کو فائدہ پہنچانے کیلئے تحقیقاتی کام پر زور دیا۔ ڈاکٹر نور الاسلام نے کہا کہ اس طرح کے مواقع ملکی تحقیق کو جدید سائنس کے ساتھ استوار کرنے کیلئے معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس موقع پر مہمان خصوصی نے تحقیقاتی پوسٹر کا مقابلہ جیتنے پر کیمب پنجاب یونیورسٹی کے سہیل انجم کو تعریفی سند نے نوازا۔ بعد ازاں مہمان خصوصی کو اعزازی شیلڈ اور سرٹیفیکیٹ دیئے گئے۔


اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں