پی آئی سی ایمرجنسی میں ڈاکٹرز کی کمی پر مسلم لیگ (ق )نے تحریک التوا پنجاب اسمبلی میں جمع کروادی

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ایمرجنسی میں 70ڈاکٹرز کی ضرورت ہے،ڈاکٹروں کی عدم فراہمی دل کے مریضوں کیلئے جانی نقصانات کا باعث ہے ،سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات،ادویات کی عدم فراہمی،اہم مشینری کی خرابی بیڈ گورننس ہے، رکن صوبائی اسمبلی خدیجہ عمر فاروقی

اتوار جنوری 17:40

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جنوری2017ء) پاکستان مسلم لیگ ق کی رکن صوبائی اسمبلی خدیجہ عمر فاروقی نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی54 کروڑ روپے کے عطیہ سے بننے والی سٹیٹ آف دی آرٹ ایمرجنسی میں ڈاکٹرز کی تعداد میں کمی اور100بستروں کی ایمرجنسی میں70کی بجائے صرف23ڈاکٹر کی دستیابی پر پنجاب اسمبلی میں تحریک التوائے کار جمع کروادی ۔

اپنی تحریک التوائے کار میں انہوںنے کہا کہ حکومت نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں تمام سہولیات فراہم کرنے کا دعویٰ کر رکھا ہے جبکہ ادارے کی ایمرجنسی کو سٹیٹ آف دی آرٹ کہا جاتا ہے اور لاہور سمیت گردو نواح سے مریضوں کی بہت بڑی تعداد علاج کیلئے پی آئی سی سے رجوع کرتی ہے اس کے علاوہ دیگر شہروں سے ایمرجنسی صورتحال میں بھی مریضوں کو پی آئی سی ریفر کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ لاہور کے مریضوں کی بہت بڑ ی تعداد پی آئی سی میں پہنچتی ہے ۔لیکن ادارے کی ایمرجنسی میں ڈاکٹر ز کی شدید کمی ہے خدیجہ فاروقی نے کہا کہ قواعد و ضوابط کے مطابق پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ایمرجنسی میں70ڈاکٹر ز کی ضرورت ہے لیکن صرف23ڈاکٹر ز کام کر رہے ہیں۔ڈاکٹروں کی عدم فراہمی سے دل کے مریضوں کو علاج معالجے میں دشواری کا سامنا ہے اور دل کے مریضوں کے جانی نقصانات کا باعث بھی ہے اس لیے حکومت پی آئی سی کی ایمرجنسی میں مطلوبہ ڈاکٹروں کی تعیناتی فوری عمل میں لائے انہوںنے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات ، ادویات کی عدم فراہمی ،اہم مشینری کی خرابی حکومت کی صحت کے شعبہ میں عدم توجہگی اور بیڈگورننس کی نشاندہی ہے جسے فوری درست کیا جائے۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments