اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںمحکمہ زراعت پنجاب نے 2016 میںریکارڈ کارکردگی کا مظاہرہ کیا جعلی ادویات ..

محکمہ زراعت پنجاب نے 2016 میںریکارڈ کارکردگی کا مظاہرہ کیا

جعلی ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف ان گنت کاروائیاں ، ایک ہزار کے قریب کھالے پختہ کئے گئے، کپاس کی بہتر پیداوار کے لئے ٹھوس اقدامات ،مکئی کے کاشتکاروں کے تحفظ کے لائحہ عمل،حکومت پنجاب کے زرعی پیکج سے پنجاب میں ایک ہزار اسامیاں پیداکرنے کی منصوبہ بندی، جعلی ادویات کے خلاف مہم میں گزشتہ 18سالوں میں نیا ریکارڈ قائم, 2016میں 2کروڑ 38لاکھ 63ہزار 100روپے مالیت کی جعلی زرعی ادویات تلف کی گئیں

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جنوری2017ء) محکمہ زراعت نے 2016میں کئی اہم سنگ میل عبور کر لئے ،گزشتہ سال محکمہ زراعت نے ریکارڈ کارکردگی مظاہر کیا ،کپاس کی پیداوار بہتر بنانے کے لئے سفید مکھی،گلابی سنڈی اور ملی بگ کو کھانے والے کیڑے کر ائی سوپا کی ہنگامی بنیادوں پر تیاری کی ،پنجاب کی تمام لیباٹریز میں موجودگی عملہ کی استعداد بڑھانے اور ان لیبارٹریز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے پنجاب کی تمام لیبارٹریز کو فنکشن کیا گیا،فلائی کنڑول پروگرام پر موثرانداز میں عمل شروع کیا گیا جس سے آم ،امردر،کینو کی کو محفوظ بنایا جائے گا ، مکئی کے کاشتکاروں کے حقوق کاتحفظ کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے ، آئی پی ایم ٹیکنالوجی متعارف رانے کی حکمت عملی مرتب کی گئی ،ایک ہزار کے قریب کھالے پختہ کرنے کا کام مکمل ہو گیا،محکمہ زراعت کی2016میں جعلی ادویات کے خلاف مہم گزشتہ 18سالوںکی نسبت سب سے موثر رہی ۔

(خبر جاری ہے)

رواں سال میں 8969زرعی ادویات کے نمونہ جات حاصل کئے گئے جبکہ 1998میں 3254، 1999میں 2494، 2000میں 3466، 2001میں 3660، 2002میں 5351، 2003میں 5683، 2004میں 6712، 2005میں 6162، 2006میں 5620، 2007میں 5435، 2008میں 6332، 2009میں 5103، 2010میں 6160، 2011میں 7650، 2012میں 8122، 2013میں 8232، 2014میں 7374اور 2015میں 8074نمونہ جات حاصل کئے گئے اور2016میں 2کروڑ 38لاکھ 63ہزار 100روپے مالیت کی جعلی زرعی ادویات تلف کی گئیں۔

محکمہ زراعت کے افسران زرعی ادویات چیک کرنے کے لئے متحرک ہیں اور وہ ان ادویات کے نمونے حاصل کرنے کے لئے صوبہ بھر کے کونے کونے میں پہنچ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ محکمہ زراعت نے رواں سال جنوری سے نومبر تک 8969ادویات کے نمونے حاصل کئے جبکہ ماہ دسمبر میں نمونے حاصل کرنے کی تعداد اس میں شامل نہیں ہے۔ ان نمونوں کو معائنے کے لئے مختلف لیبارٹریز میں بھجوایا گیا اور جو نمونے جعلی ثابت ہوئے ان کے مالکان کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی گئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں