اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںمسلم دنیا انتہاپسندی اور دہشت گردی کیخلاف فکری اتحاد کے قیام کی طرف ..

مسلم دنیا انتہاپسندی اور دہشت گردی کیخلاف فکری اتحاد کے قیام کی طرف توجہ دے۔ ترکی اور دیگر ممالک میں ہونے والے دھماکے اور عرب اسلامی ممالک کو تقسیم کرنے کی سازشوں کا مقابلہ باہمی اتحاد سے عملی طور پر کرنا ہوگا۔ شام کو تین حصوں میں تقسیم کرنے اور سعودی عرب میں خانہ جنگی پھیلانے کے منصوبے بن چکے ہیں

پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا علماء کنونشن اور سیرت رحمة اللعالمین ؐ کانفرنس سے خطاب

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جنوری2017ء) پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد پاکستان کے صدر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہمسلم دنیا انتہاپسندی اور دہشت گردی کیخلاف فکری اتحاد کے قیام کی طرف توجہ دے۔ ترکی اور دیگر ممالک میں ہونے والے دھماکے اور عرب اسلامی ممالک کو تقسیم کرنے کی سازشوں کا مقابلہ باہمی اتحاد سے عملی طور پر کرنا ہوگا۔

شام کو تین حصوں میں تقسیم کرنے اور سعودی عرب میں خانہ جنگی پھیلانے کے منصوبے بن چکے ہیں۔یہ بات انھوں نے علماء کنونشن اور سیرت رحمة اللعالمین ؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی،حافظ محمد امجد،علامہ شبیر احمد عثمانی،مولانا محمد عامر اشرف،مولانا یاسر علوی نے بھی خطاب کیا۔

(خبر جاری ہے)

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ لیبیاء،عراق،شام کی تباہی کے بعد سعودی عرب ،ترکی اور پاکستان ہدف ہیں ۔

پاکستانی قوم اور فوج کی قربانیوں سے دشمن کی سازشیں ناکام ہوئیں ہیں لیکن اب ترکی اور سعودی عرب میں ہونے والے حملے حالات کو واضح کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ داعش ،حوثی باغیوں ،حزب اللہ اور دیگر انتہاپسند اور دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں عالم اسلام کو واضح مؤقف اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ رابطہ عالم اسلامی کے تحت عالمی اسلامی فکری اتحاد کے قیام کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔

سعودی عرب کی قیادت سمیت تمام اسلامی ممالک کو فکری اتحاد کی طرف توجہ دیناہوگی۔ جب تک دہشت گرد اور انتہاپسندعناصر کے نظریات کو چیلنج نہیں کیا جائے گا اس وقت تک دہشت گردی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اپنے ترک بھائیوں کے ساتھ ہے اورترکی میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں