اُردو پوائنٹ پاکستان لاہورلاہور کی خبریںگزشتہ برس پاکستان میں قائم بیشتر ریکارڈنگ کمپنیاں بحران سے دو چار ہو ..

گزشتہ برس پاکستان میں قائم بیشتر ریکارڈنگ کمپنیاں بحران سے دو چار ہو گئیں‘فاروق خان ،ملک میں کوئی نیا معیاری گانے والا گلوکار یا گلوکارہ نہیں پرانے گلوکاروں کو لوگ سن سن کر تنگ آچکے ہیں ‘خصوصی گفتگو

لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔12جنوری 2009 ء)فاروق ریکارڈنگ اسٹوڈیو لاہور کے روح رواں فاروق خان نے کہا ہے کہ گزشتہ برس پاکستان میں قائم بیشتر ریکارڈنگ کمپنیاں بحران سے دو چار ہو گئیں ۔ انہوں نے ایک ملاقات میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دو برس کے دوران پاکستان میں قائم متعدد ریکارڈنگ اسٹوڈیو ز بند ہونا شروع ہو گئے ہیں خاص طور پر وہ ریکارڈنگ کمپنیاں جو مختلف سنگرز کے آڈیو ریلیز کر تی تھیں وہ زیادہ نقصان سے دو چار ہوئی ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پورے ملک میں کوئی نیا معیاری گانے والا گلوکار یا گلوکارہ موجود نہیں پرانے گلوکاروں کو لوگ سن سن کر تنگ آچکے ہیں جبکہ کئی معروف سنگرز اسٹیج شوز اور اپنی نئی آڈیو البم ریلیز کرنے سے بھی قاصر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس سائرہ نسیم ‘شاہدہ منی ‘جواد احمد ‘ابرار الحق ‘حمیرا چنا اور دیگر کئی معروف گلوکاروں نے موجودہ بحران کے سبب اپنی نئی آڈیو البمز ریلیز کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا ۔

(خبر جاری ہے)

رہی سہی کسر حالیہ پاک بھارت کشیدگی نے پوری کر دی ہے ۔ ہمارے وہ گلوکار جو بھارت جا کر بھارتی ریکارڈنگ کمپنیوں کے ذریعے اپنی آڈیو البمز ریلیز کرنے کا ارادہ رکھتے تھے وہ بھی مایوسی کا شکار ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کئی نامور گلوکار بھارت میں میوزیکل شوز کے ذریعے لاکھوں روپے کما رہے تھے وہ بھی آج کل فارغ بیٹھے ہیں ۔ میوزک انڈسٹری پر موجود اس بحران کا حل قومی سطح پر تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاہور شہر کی مزید خبریں