حکومت نے پی سی بی میں بڑھتی ہوئی بدنظمی اور غلط اقدامات کا سخت نوٹس لے لیا ،اعجاز بٹ کو سبکدوش اورآفتاب جیلانی کو پی سی بی کے معاملات دیئے جانے کی تجویز زیر غور

پیر جنوری 12:22

لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔05جنوری 2009 ء) حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ میں بڑھتی ہوئی بدنظمی اور غلط اقدامات کا سخت نوٹس لے لیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ پی سی بی کے نئے آئین کی تشکیل کے بعد پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ کو ان کے عہدے سے سبکدوش اور وفاقی سپورٹس منسٹر پیر آفتاب جیلانی کو پی سی بی کے معاملات دے دیئے جانے کی تجویز زیر غور ہے اس سلسلہ میں دو ماہ کا وقت اعلی حلقوں میں لیا جارہا ہے ،پی سی بی کے چیئرمین کی ٹیم کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے پی سی بی کے چیئرمین کے خلاف مختلف محاز کھل چکے ہیں اور پی سی بی کے چیئرمین پی سی بی کے معاملات چلانے میں ناکام نظر آتے ہیں حکومت نے پی سی بی کی طرف سے میڈیا رائٹس دینے کے معاملات کی چھان بین کا بھی فیصلہ کیا ہے اس میں بھی صحیح طریقہ کار نہیں اختیار کیا گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ اسوقت مکمل طور پر تنہا ہو چکے ہیں پی سی بی کے عہدیدار ان کے امیج کو بہتر بنانے کی بجائے اپنی اپنی نوکریاں بچانے کی فکر کر رہے ہیں پی سی بی میں ٹیم کے طور پر کام کئے جانے کی کوئی کوشش نہ کی جارہی ہے پی سی بی کے ڈائریکٹر ،چیف سلیکٹر اور کوچ اپنے علیحدہ علیحدہ بیانات دے رہے ہیں پی سی بی کا متفقہ موقف سامنے نہ آرہا ہے جس سے پی سی بی کے معاملات میں ایڈمنسٹریشن کی کمزوری صاف نظر آرہی ہے اعجاز بٹ گو کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر ہیں لیکن ان کی عمر ۷۰ سال سے زائد ہوچکی ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن آصف علی زرداری بھی ان کی کارکردگی سے زیادہ مطمئن نہ ہیں اسکا واضح ثبوت یہ ہے کہ جب پی سی بی کے چیئرمین نے آئین میں ترمیم کے لئے آصف علی زرداری سے ملنے کی کوشش کی تو انھیں صرف آصف علی زرداری کے پرنسپل سیکرٹری سے ہی ملنے کا موقع ملا زرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پی سی بی کے چیف آپریٹنگ سلیم الطاف بھی ورلڈ کپ ۲۰۱۱ کے ڈائریکٹر بننے کو ترجیع دیں گے کیونکہ وہاں ان کی نوکری محفوظ ہوگی پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ باڈی کے اراکین بھی پی سی بی کے چیئرمین سے نراض نظر آرہے ہیں اور وہ گورننگ باڈی کے اجلاس میں پی سی بی کے چیئرمین کو سخت تنقید کا نشانہ بنانے کی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں لیکن اعجاز بٹ اسوقت گورننگ بورڈ کا اجلاس نہ بلا رہے ہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل جاوید میانداد کے عہدہ کی پی سی بی کے آئین میں کوئی ذکر نہ ہے اور نہ ہی ان کا ابھی تک پی سی بی سے کسی قسم کا کویٴ کنٹریکٹ ہوا ہے لیکن وہ اسوقت ہر قسم کے فیصلوں پر اپنے احکامات جاری کر رہے ہیں ایک طرف پی سی بی کے غریب ملازمین کو فارغ کیا جارہا ہے اور دوسری طرف بھاری تنخواہوں پر اعلی عہدیدارانکو رکھا جارہا ہے وفاقی وزیر سپورٹس پیر آفتاب جیلانی بھی پی سی بی کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ پی سی بی کے پیٹرن آصف علی زرداری سے پی سی بی میں ہونے والی بدنظمی کے بارے میں بات کریں گے ان کا کہنا تھا کہ پی سی بی کے آئین میں ترمیم کے بعد اگلے دو ماہ میں اسے حتمی شکل دیدی جائے گی انھوں نے کہا کہ پی سی بی میں وہی کچھ ہو رہاہے جو کہ سابق دور میں ہو رہا تھا ۔

لاہور شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments