طورخم کسٹم اسٹیشن پرڈی سی ایکسپورٹ کے سخت اور خود ساختہ پالیسی کی وجہ سے تاجر اور ایکسپورٹرز پریشان

منگل 28 ستمبر 2021 16:28

طورخم کسٹم اسٹیشن پرڈی سی ایکسپورٹ کے سخت اور خود ساختہ پالیسی کی وجہ ..
لنڈی کوتل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 ستمبر2021ء) حکومت ملکی معیشت بڑھانے وایکسپورٹ کی بہتر پالیسی کیلئے کوشاں ہے۔ قانونی طورپر ہر گاڑی کی ایگزامینیشن دس فیصد کیا جانا ہے ۔طورخم کسٹم اسٹیشن پرڈی سی ایکسپورٹ کے سخت اور خود ساختہ پالیسی کی وجہ سے تاجر اور ایکسپورٹرز پریشان ہیں۔ سکینرنارمل قرار پانے والے گاڑیوں کی سو فیصد ایگزامینیشن کرنا ایف بی آر قوانین کیخلاف ورزی ہے ۔

ایکسپورٹرز اس سلسلہ میں طورخم ڈی سی کے دفتر ان سے ملنے گئے مگر ملنے سے انکار کیا ۔ کسٹم ایجنٹس کا کہنا ہے کہ ڈی سی کے زبان پر ایک ہی لفظ ہے کہ اوپر سے ارڈر ہے کہ ایکسپورٹ کا دائرہ تنگ وسخت کر دو۔ایکسپورٹ گاڑیوں سے ایگزامینیشن کے نام پرسامان ایک بار اتارنا تو لازمی ہے کہ بعض اوقات دو دو اور تین تین دفعہ بھی ا تارا جاتا ہے جس پر لوڈنگ آن لوڈنگ کرتے وقت تاجروں کا ایک گاڑی پر 70 ہزار تک خرچ آتاہے۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ ہر گاڑی سے دو اور تین سیمپل لیکر ٹسٹ کے لئے بھیجواتے ہیں ایک ایک سیمپل کی قیمت 10اور20ہزار روپے سے کم نہیں ہوتی ٹسٹس PSIRلیبارٹری کو بھیجوائے جاتے ہیں لیکن ان کی ریزلٹ انے سے پہلے گاڑی کو چھوڑا جاتا ہے لیکن گزشتہ ایک سال میں کسی ایک گاڑی میں ممنوعہ اشیاء برآمد نہیں ہوئی نارمل قرار دینے کے باوجود بھی ایکسپورٹ گاڑیوں کی کا سو فیصد ایگزامینیش کرایاجاتا ہے ۔

ایکسپورٹرکیمطابق ایک گاڑی پر سیمپل اور لوڈنگ آن لوڈنگ کا خرچہ ایک لاکھ تک پہنچتاہے ایک ایکسپورٹرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈی سی کسٹم ایکسپورٹ عمیر زاہد کی سخت اور تکلیف دہ پالیسی سے ایکسپورٹرز کو پریشانی لاحق ہے اور زیادہ تر ایکسپورٹرز نے طورخم کے راستے ایکسپورٹ بند کی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ سکینر اور تین بار فزیکل ایگزامینیشن سے دو دن گاڑی طورخم میں کھڑی رہتی ہے ان کا مال بروقت آفغانستان نہیں پہنچتاجس سے تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو نقصان ہورہاہے کسٹم کے مصدقہ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ کسٹم کلکٹریٹ پشاور میں دفتری امور بہتر طریقے سے نہ چلانے والے اور بہتر کارکردگی نہ دکھانے والے آفسر عمیر زاہد کو ڈی سی ایکسپورٹ طورخم تعینات کرکے تاجروں اور ایکسپورٹرز کے ساتھ زیادتی کی جس کے باعث ایکسپورٹ کا تجارتی حجم کم ہوگیا اور روزانہ200 گاڑیوں کے ایکسپورٹ کی بحائے اب درجنوں میں مال بردار گاڑیاں ایکسپورٹ ہوتی ہیں کلیکٹر کسٹم پشاور سے کسٹم ایجنٹس اور ایکسپورٹرز کا مطالبہ ہے کہ انہیں طورخم سے تبدیل کیا جائے کیونکہ یہ قومی معیشت کو کمزور کرنے میں مصروف عمل ہے جو قومی خزانے اور قومی مفاد کیلئے نقصاندہ ہے۔

واضح رہے کہ ڈی سی ایکسپورٹ عمیرزاہد کو بری کارکردگی پرطو رخم تعینات کیا ہے وہ آفیشل امور چلانے کی اہلیت نہیں رکھتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :

لنڈی کوتل شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments