نمرتا قتل کیس میں گرفتار مہران ابڑو نے حوالات میں امتحان دے دوسری پوزیشن حاصل کرلی

مہران ابڑو نے ڈینٹل ڈاکٹر کے فائنل ائیر کے تحریری اور زبانی امتحان میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی تاہم ایف آئی آر درج نہ ہونے کے باوجود ابھی تک مہران ابڑو کی ضمانت نہیں ہوسکی

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ اتوار دسمبر 11:44

نمرتا قتل کیس میں گرفتار مہران ابڑو نے حوالات میں امتحان دے دوسری پوزیشن ..
لاڑکانہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 08دسمبر 2019ء) : نمرتا قتل کیس میں گرفتار مہران ابڑو نے حوالات میں امتحان دے دوسری پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا چندانی کے قتل کے کیس میں گرفتار طالبعلم مہران ابڑو نے ڈینٹل ڈاکٹر کے فائنل ائیر کے تحریری اور زبانی امتحان میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ہے۔

ذرائع کے مطابق مہران ابڑو نے اپنے آخری سال کا تحریری اور زبانی امتحان حوالات میں رہتے ہوئے دیا تھا جس میں اسنے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ دوسری جانب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نمرتا کیس میں کوئی ایف آئی آر درج نہ ہونے کے باوجود ابھی تک مہران ابڑو کی ضمانت نہیں ہوسکی ہے۔ نمرتا ہلاکت کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہتھی جس میں بتایا گیا تھا کہ نمرتا اور مہران ابڑو کے درمیان 4 ہزار سے زائد بار فون پر رابطہ ہوا تھا۔

(جاری ہے)

آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی طالبہ نمرتا اور ان کے قریبی دوست مہران ابڑو اور علی شان کے رابطوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔ایس ایس پی نے بتایا تھا کہ ایف آئی اے سائبر ونگ کی جانب سے نمرتا ہلاکت کیس کی رپورٹ پولیس نے حاصل کر لی تھی جس میں نمرتا اور مہران ابڑو کے درمیان بہت زیادہ رابطہ تھا۔اور دونوں چار ہزار بار کال اور ٹیکسٹ میسیج پر بات چیت کر چکے تھے۔

نمرتا نے آخری بار 15 ستمبر کو مہران ابڑو سے رابطہ کیا ہے،اور اس ماہ میں نمرتا نے صرف ایک بار اپنے بھائی ڈاکٹر وشال سے بات کی تھی جب کہ قتل کے روز والد سے ایک بار اور والدہ سے چار بار بات کی تھی۔ یاد رہے کہنمرتا چندانی کی ہلاکت کے معاملے میں لیاقت یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز جامشورو نے جو ہسٹوپیتھالوجی ایگزامنیشن رپورٹ جاری کی تھی اس میں بتایا گیا تھا کہ نمرتا چندانی کی موت بظاہر دم گھٹنے یا آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے ہوئی، اس کے دل، گردوں، پھیپھڑوں اور جگر میں کوئی غیرمعمولی تبدیلی نہیں پائی گئی۔

متعلقہ عنوان :

لاڑکانہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments