بیٹی تجہد گزار تھی، وہ کیسے خودکشی کر سکتی ہے ؟

میری بیٹی سولہ سولہ گھنٹے پڑھتی تھی، ہمیں اس پر یقین نہیں کہ وہ خودکشی کر سکتی ہے، ایک دن پہلے فون پر بات ہوئی تو اُس نے کسی پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔مبینہ خودکشی کرنے والی طالبہ نوشین کاظمی کے والد کی گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ 26 نومبر 2021 12:55

 بیٹی  تجہد گزار تھی، وہ کیسے خودکشی کر سکتی ہے ؟
لاڑکانہ (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔26 نومبر2021ء) دو روز قبل چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں میڈیکل کی طالبہ نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی۔تاہم یہ واقعہ خودکشی ہے یا پھر قتل اس کا تعین تفصیلی رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔بی بی سی رپورٹ کے مطابق طالبہ کے والد ہدایت اللہ کاظمی کا کہنا ہے کہ اس کی بیٹی خودکشی نہیں کر سکتی۔انہوں نے دادو میں نوشین کی تدفین کے بعد گفتگو میں کہا کہ میری بیٹی سولہ سولہ گھنٹے پڑھتی تھی، وہ تجہد گزار تھی وہ کیسے خودکشی کر سکتی ہے ؟ ہمیں اس پر یقین نہیں۔

یہاں یہ واضح رہے کہ نوشی کاظمی کی لاش پانچ سے چھ گھنٹے پنکھے سے ہی لٹکتی رہی جب تک اس کے والدین نہیں پہنچ گئے۔پوسٹ مارٹم ٹیم میں شامل ڈاکٹر کے مطابق لاش کے چار پانچ گھنٹے لٹکے رہنے کی وجہ سے گردن کا سائز دو تین انچ بڑھ گیا تھا۔

(جاری ہے)

پولیس ترجمان کے مطابق پنکھے سے نوشین کے فنگر پرنٹ ملے ہیں اور ان کی انگلیوں پر بھی مٹی کے نشان موجود تھے۔

ایک ہفتہ قبل نوشین کی بہن کی منگنی تھی جس میں شرکت کے بعد وہ واپس ہاسٹل گئی۔ہدایت کاظمی کے مطابق ان کی بیٹی سے ٹیلیفون پر بھی بات ہوئی تھی جس میں انہوں کسی خدشے یا پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔پولیس نے الماری میں موجود نوشین کا ٹیلیفون بھی برآمد کر لیا ہے۔نوشین کاظمی کا تعلق سندھ کے ضلع دادو سے تھا۔ان کے نانا استاد بخاری سندھ کے نامور شاعر اور استاد رہے ہیں۔

ان کے والد سید ہدایت شاہ محکمہ سوشل ویلفئئیر میں چائلڈ پروٹیکشن آفیسر ہیں۔جبکہ طالبہ نوشین کاظمی کی پراسرار موت سے متعلق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی۔پولیس کے مطابق چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کے ہاسٹل میں طالبہ نوشین کاظمی کی لاش برآمد ہوئی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق نوشین کی موت گلے میں پھندے کے باعث ہوئی، دونوں پھیپھڑوں میں خون کے نشانات ملے ہیں۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں جسم پر تشدد کے نشانات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ڈی آئی جی نے کہا ہے کہ نوشین کاظمی سندھ کے عوامی شاعر استاد بخاری کی نواسی اور دادو کے ڈپٹی ڈائریکٹر سید ہدایت حسین شاہ کی بیٹی تھیں۔والد کا کہنا تھا کہ روم میٹ اور دیگر افراد کو شامل تفتیش کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ میڈیکل کے چوتھے سال کی طالبہ نوشین کی لاش چھ گھنٹے تک پنکھے سے لٹکی رہی، دروازہ توڑ کر لاش کو باہر نکالا گیا تھا۔

لاڑکانہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments

>