لاڑکانہ چانڈکا میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں زیر تعلیم ڈاکٹر کی خودکشی کا معمہ حل نہ ہوسکا

کمزور ریکارڈ دانستہ طور پر جاری کرکے کیس کا رخ موڑنیکی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے پولیس تحقیقات بھی اثر انداز ہوسکتی ہے،ذرائع

بدھ 1 دسمبر 2021 16:34

لاڑکانہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 دسمبر2021ء) چانڈکا میڈیکل کالج ہاسٹل میں ڈاکٹر کی خودکشی کے واقعے کو 7 روز گزر جانے کے باوجود پولیس ٹھوس شواہد سامنے نہ لاسکی۔تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ چانڈکا میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں زیر تعلیم ڈاکٹر کی خودکشی کا معمہ حل نہ ہوسکا ، پولیس ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود ٹھوس شواہد سامنے نہ لاسکی۔

جامعہ انتظامیہ کی جانب سے ڈاکٹر نوشین سمیت دیگر طالبات کے نام اور اکیڈمک ریکارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ کمزور ریکارڈ دانستہ طور پر جاری کرکے کیس کا رخ موڑنیکی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے پولیس تحقیقات بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔اس سے قبل بھی نمرتا کماری کے واقعہ میں بھی اسی طرح کا ریکارڈ جاری کرکے مبینہ طور پر کیس پر دبا ڈالا گیا تھا۔

(جاری ہے)

دوسری جانب جامعہ بے نظیر بھٹو کی جانب سے ڈاکٹر نوشین معاملے پر بنائے گئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر صفدر شیخ بھی تنقیدکی زدمیں ہیں ، جنہیں بوگس چیک دینے کے الزام میں مقدمے کا سامنا ہے، کرمنل ریکارڈ کے ہوتے وہ کس بنیاد پر کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے شفاف انکوائری کریں گے۔گذشتہ روز لاڑکانہ میں میڈیکل اسٹوڈنٹ ڈاکٹر نوشین شاہ کیس میں اہم انکشافات سامنے آئے تھے ، نوشین سندھ کے نامور شاعر استاد بخاری کی نواسی تھی۔

ڈاکٹر نوشین کے ہاسٹل کمرے سے ایک ڈائری ملی تھی ،جس میں موجود تحریریں رومن اردو میں لکھی گئی ہیں اور گھریلو مسائل کا اظہار کیا گیا، ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نوشین گھر کے ایک اہم فرد سے متعلق والد کو آگاہ کرنا چاہتی تھیں۔نوشین کاظمی نے ڈائری کے ایک صفحے پر لکھا تھا کہ بابا میں آپ کو کچھ بتانا چاہتی ہوں، بھائی کو بھی معلوم ہے۔دوسری جانب چانڈکا میڈیکل کالج ہاسٹل میں ڈاکٹر نوشین کی ہلاکت کے معاملے میں روم میٹ کوئٹہ کی رہائشی زینب پٹھان نے ڈی آئی جی لاڑکانہ مظہر نواز کی سربراہی میں قائم جی آئی ٹی کو اپنا بیان رکارڈ کرایا۔زینب پٹھان کا کہنا تھا کہ نوشین نہایت کم گو اور تنہائی پسند اسٹوڈنٹ تھیں، وہ لڑکیوں سے نہ گھلتی ملتی نہ ہی زیادہ بات کرتی تھیں۔

لاڑکانہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments