اُردو پوائنٹ پاکستان لاڑکانہلاڑکانہ کی خبریںنشے میں دھت ہو کر 2نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے اور چار افراد کو معذور ..

نشے میں دھت ہو کر 2نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے اور چار افراد کو معذور کرنے والے لاڑکانہ پولیس کے سب انسپکٹر پر مقدمہ درج

لاڑکانہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 جنوری2018ء) نشے میں دھت ہو کر اپنی گاڑی کے ذریعے دو نوجوانوںاعتبار دایو اور غلام سرور سومرو کو موت کے گھاٹ اتارنے اور چار افراد کو معذور کرنے والے لاڑکانہ پولیس کے سب انسپیکٹر علی مرتضیٰ چانڈیو پر مقتولیں کے ورثائ کی مدعیت میں مقدمہ درج، ولید تھانہ کی پولیس نے تھرڈ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا ، عدالت نے ملزم کو 7روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا، کمرہ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سب انسپیکٹرعلی مرتضیٰ چانڈیو نے نشے میں دھت ہو کر گاڑی چلانے کے عائد الزام کو مسترد کیا۔

(خبر جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصہ سے زیابتیض کے مریض ہیں اور ایس ایس پی عرفان بلوچ کے بھائی جو کہ سکھر میں ڈاکٹر ہیں کے پاس سے علاج کروا رہے ہیں وہ شراب نوشی نہیں کرتے اور واقع والے روز بھی وہ نشے میں نہیں تھے، سب انسپیکٹر کا مزید کہنا تھا کہ واقع کے روز وہ نو دیرو سے لاڑکانہ آرہے تھے کہ رائس کینا ل روڈ پر سامنے سے شہزور گاڑی جس کی لائٹس بہت تیز تھیں آئی اور میں خود کو بچاتے ہوئے فٹ پاتھ کی جانب گیا جہاں یہ حادثہ پیش آیا، واضح رہے کہ لاڑکانہ پولیس کے افسران سب انسپیکٹر کے نشے میں ہونے کے بیانات دے چکے ہیں جب کہ اے ایس پی لاڑکانہ عمران کھوکھر کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں بھی علی مرتضیٰ چانڈیو نشے میںہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

لاڑکانہ شہر کی مزید خبریں