حکومت سازی کیلئے پی ٹی آئی کی کچھ سیٹیں کم ہوئیں تو آپ کو پتا ہے پھر جہاز چلا

پنجاب میں حکومت بنانے کیلئےن لیگ سے8 سیٹیں کم تھیں، خان صاحب کا پیغام آیا کہ پنجاب کے بغیر حکومت کا کوئی فائدہ نہیں،میں نے کہا فکر نہ کریں، لیکن سازش کے تحت مجھے عمران خان سے الگ کردیا گیا۔ مرکزی رہنماء پی ٹی آئی جہانگیرترین

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 12 اکتوبر 2021 18:25

حکومت سازی کیلئے پی ٹی آئی کی کچھ سیٹیں کم ہوئیں تو آپ کو پتا ہے پھر جہاز چلا
لودھراں (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اکتوبر2021ء) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہانگیرترین نے کہا ہے کہ حکومت سازی کیلئے پی ٹی آئی کی کچھ سیٹیں کم ہوئیں تو آپ کو پتا ہے پھر جہاز چلا، پنجاب میں حکومت بنانے کیلئےن لیگ سے8 سیٹیں کم تھیں، خان صاحب کا پیغام آیا کہ پنجاب کے بغیر حکومت کا کوئی فائدہ نہیں،میں نے کہا فکر نہ کریں، لیکن حکومت بننے کے بعد مجھے عمران خان سے الگ کردیا گیا۔

انہوں نے لودھراں میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات 2018 کے صرف چھ ماہ پہلے مجھے ایک فضول فیصلے پر نااہل کردیا گیا، لیکن جب عمران خان کی حکومت بن گئی تو پھر ایک سازش کے تحت مجھے خان صاحب سے الگ کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں حکومت بنانے کیلئے ن لیگ سے8 سیٹیں کم تھیں، خان صاحب کا پیغام آیا کہ پنجاب کے بغیر حکومت کا کوئی فائدہ نہیں،میں نے کہا فکر نہ کریں، حکومت سازی کیلئے پی ٹی آئی کی کچھ سیٹیں کم ہوئیں تو آپ کو پتا ہے پھر جہاز چلا۔

(جاری ہے)

جہانگیر ترین نے گزشتہ روز لودھراں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مہنگائی بہت زیادہ ہوچکی ہے، حکومت کو چاہیے کہ سب کام چھوڑ کر مہنگائی کنٹرول کرنے کی طرف توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کررہا، الیکشن تحریک انصاف سے ہی لڑوں گا، اس مرتبہ الیکشن میں ضرور حصہ لوں گا، ہم تحریک انصاف کا حصہ ہیں اور تحریک انصاف میری جماعت ہے۔

احمد محمود کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں وہ میرے قریبی عزیز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی کی وجہ سے تکلیف میں ہے، حکومت کو سب کام چھوڑ کر مہنگائی کنٹرول کرنی چاہیے، مہنگائی سپلائی اور ڈیمانڈ سے کنٹرول ہوتی ہے۔ بروقت چینی گندم امپورٹ کی جاتی تو مسائل پیدا نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ہرالیکشن میں ٹکٹ کا فیصلہ پارٹی کرتی ہے، پارٹی فیصلے کے مطابق ٹکٹ دیے گئے۔

لودھراں شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments