ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ میں یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے تقریب کا اہتمام

بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کر کے اپنے ہی آئین کی پامالی کی ہے اور اس کا نام نہاد سیکولر چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے، تقریب سے شرکاء کا خطاب

جمعرات اگست 23:02

ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ میں یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے تقریب کا ..
مانسہرہ  (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔6اگست ۔2020ء)   ہزارہ یونیورسٹی مانسہر ہ میں وفاقی حکومت کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں 5اگست یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس کے مہمان خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جمیل احمد تھے۔انہوں نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے آرٹیکل 370  ختم کر کے اپنے ہی آئین کی پامالی کی ہے اور اس کا نام نہاد سیکولر چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکا ہے۔

وائس چانسلر نے کہا کہ کشمیر میں اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اور منظم دہشت گردی جاری ہے جس میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اور اس ظلم پر اقوام عالم کے علاوہ مسلم دنیا کی خاموشی اور بے حسی انتہائی افسوسناک ہے ۔وائس چانسلر نے کہا کہ ہم بحیثیت پاکستانی قوم دکھ کی اس گھڑی میں اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اورعہد کرتے ہیں کہ  پاکستانی عوام کی کشمیریوں کے لئے اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رہے گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کاواحد حل اقوام متحدہ کی قرادوں مضمر ہے جسے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جا نا چاہیے ۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو کشمیر کے بارے میں آگاہی اور شعور دینا چاہیے ہے تاکہ وہ بھی کشمیر میں جاری بھارتی ظلم اور بربریت سے آگاہ ہو سکیں ۔تقریب سے دیگر شرکاء نے بھی خطاب کرتے ہوئے کشمیریوں کے استحصال اور وہاں جاری بھارتی جبر و استبداد کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی اورکشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا ۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے کشمیر کی آزادی کے لئے اجتماعی دعا کی ۔اس موقع پر یونیورسٹی کے مختلف تعلیمی و انتظامی شعبوں کے سربراہان، فیکلٹی ممبران اور دیگر ملازمین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

مانسہرہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments