مردان کے بارہ ویکسنیشن سنٹرز میں اب تک 77ہزارافراد کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے ویکسئین لگوائی گئی

بدھ جون 00:26

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 جون2021ء) ضلع مردان کے بارہ ویکسنیشن سنٹرز میں اب تک 77ہزارافراد کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے ویکسئین لگوائی گئی ہے۔ ویکسنیشن سنٹرز میں اساتذہ کے لئے خصوصی کاؤنٹرز قائم کر دیے گئے ہیں اور بغیر کسی انتظار کے اساتذہ کو ویکسیئن لگوائی جارہی ہے۔ ان خیالات کا اظہارایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر مردان محمد یار خان اور ڈی ایچ او آفس کے فوکل پرسن ڈاکٹر امتیاز نے پختونخوا ریڈیو مردان ایف ایم92.6مردان کے پروگرام چاپیر چل میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر شہریوں نے ٹیلی فون کالز کے ذریعے ویکسنیشن کے حوالے سے معلومات بھی حاصل کی۔انہوں نے کہاکہ ضلعی سطح پر ڈی سی آفس میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے اور شہری کسی بھی مسئلے کی صورت میں کنٹرول روم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ،شہریوں اور تاجربرادری کے تعاون سے مردان میں کورونا وائرس کی مثبت شرح پانچ فیصد تک آ گئی ہے او ربہت جلد مردان کو کورونا وائرس سے پاک کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ مردان میں ضلعی انتظامیہ نے پہلا ماس ویکسنیشن سنٹر فیملی پارک کالج چوک میں قائم کر دیا ہے جس میں روزانہ کی بنیاد پر ایک ہزار افراد کو ویکسئین لگوائی جارہی ہے جبکہ سنٹر ز میں صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک عملہ موجود رہتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ضلع بھر میں ایس او پیز پر عملدر آمد کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لارہے ہیں اگر شہری تعاون کریں تو بہت جلد ہم کورونا وائرس کو شکست دے سکتے ہیں۔

ڈاکٹر امتیاز نے کہاکہ ضلعی انتظامیہ اور ڈی ایچ او آفس نے دیگر تحصیلوں میں بھی ماس ویکسنیشن سنٹرز قائم کرنے کے لئے حکمت عملی مرتب کر لی ہے اور بہت جلد تمام تحصیلوں میں ماس ویکسینیشن سنٹرز قائم کر دیے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ یونین کونسل سطح پر ویکسنیشن سنٹرز کے قیام کے لئے بھی کوششیں جاری ہے اور بہت جلد ضلع مردان کے 75یونین کونسلوں میں سنٹرز قائم کر دیے جائیں گے جس سے شہریوں کو گھر کی دہلیز پر کورونا وائر س سے بچاؤ کے لئے ویکسئین لگوائے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ اساتذہ شناختی کارڈ کاپی او ر پے سلپ کاپی کے ساتھ کسی بھی سنٹر میں جا کر ویکسئین لگوا سکتے ہیں۔.

متعلقہ عنوان :

مردان شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments