پاک فوج کی چیک پوسٹ پر محسن داوڑ اور علی وزیر کی ساتھیوں کے ہمراہ فائرنگ کے بعد سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم نے جعلی مہم چلانا شروع کر دی،افغان سوشل میڈیا بھی شامل

میران شاہ میں بویا کے مقام پر محسن داوڑ اور علی وزیر کی ساتھیوں کے ساتھ مل کر فائرنگ کے بعدسوشل میڈیا پر ملک دشمن عناصر نے ہرزاسرائی شروع کر دی

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ اتوار 26 مئی 2019 13:50

پاک فوج کی چیک پوسٹ پر محسن داوڑ اور علی وزیر کی ساتھیوں کے ہمراہ فائرنگ ..
میران شاہ(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔26مئی2019) پاک فوج کی چیک پوسٹ پر محسن داوڑ اور علی وزیر کی ساتھیوں کے ہمراہ فائرنگ کے بعد سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم نے جھوٹی مہم چلانا شروع کر دی ہے۔ پی ت ی ایم کارکنان جعلی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو غلط تاثر دینے کی کوشش کرنے لگے۔ پی ٹی ایم کارکنان کی جان سے سوشل میڈیا پر جھوٹی تصاویر اور ویڈیوز شئیر کی جا رہی ہیں اور پاک فوج اور پاکستان کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے، افغان میڈیا گروپس بھی اس مہم میں شامل ہو گئے ہیں اور پاکستان کے خلاف ہرزاسرائی کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پی ٹی ایم رہنما محسن داوڑ اور ان کے ساتھیوں نے میراں شاہ کے علاقے بویا میں پاک فوج کی چیک پوسٹ پر موجود جوانوںفائرنگ کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی ایم رہنما محسن داوڑ اس وقت میراں شاہ کے علاقے بویا میں موجود ہیں جہاں ایک سڑک پر موجود پاک فوج کی چیک پوسٹ پر محسن داوڑ نے نعرے بازی شروع کر دی جس میں ان کے ساتھی بھی شامل ہو گئے، ذرائع کے مطابق محسن داوڑ اور ان کے ساتھیوں کے پاس اسلحہ بھی موجود ہے اور انہوں نے پاک فوج کی چیک پوسٹ پر فائرنگ بھی کی ہے۔

(جاری ہے)

پاک فوج نے محسن داوڑ اور علی وزیر کے کچھ مسلح ساتھیوں کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ محسن داوڑ اور علی وزیر کی جانب سے پاک فوج اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی اور ہرزاسرائی جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ بویا میں اس جگہ پیش آیا ہے جہاں محسن داوڑ اپنے ساتھیوں کے ساتھ دھرنا دے رہے ہیں۔ محسن داوڑ نے چند روز قبل کہا تھا کہ وہ بدلہ لیں گے اور آج انہوں نے انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پاک فوج پر حملہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے پی ٹی ایم کا سوشل میڈیا سیل بھی حرکت میں آ گیا ہے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹی مہم چلائی جا رہی ہے جبکہ افغان سوشل میڈیا گروپس بھی پاک فوج کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔

میرانشاہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments