پاکستان میں دیرپا امن افغانستان کے امن سے منسلک ہے جس کیلئے پاکستان اپنا کردار ادا کررہا ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

پاک افغان سرحد پر جاری باڑ کی تنصیب سے سرحد پار سے دہشت گردوں کی آمدورفت کم ہوئی ہے ، دہشت گردی کے واقعات بھی بتدریج کم ہورہے ہیں،شہری دیسی بارودی سرنگوں کے واقعات کی روک تھام میں محتاط رہیں اور شدت پسندوں کے سہولت کاروں سے بھی چوکنا رہیں، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا میران شاہ کے دورے کے دور ان عمائدین سے بات چیت

جمعہ 27 ستمبر 2019 23:17

پاکستان میں دیرپا امن افغانستان کے امن سے منسلک ہے جس کیلئے پاکستان ..
میرانشاہ/راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 ستمبر2019ء) سربراہ پاک فوج جنرل قمرجاویدباجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں دیرپا امن افغانستان کے امن سے منسلک ہے جس کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کررہا ہے، پاک افغان سرحد پر جاری باڑ کی تنصیب سے سرحد پار سے دہشت گردوں کی آمدورفت کم ہوئی ہے ، دہشت گردی کے واقعات بھی بتدریج کم ہورہے ہیں،شہری دیسی بارودی سرنگوں کے واقعات کی روک تھام میں محتاط رہیں اور شدت پسندوں کے سہولت کاروں سے بھی چوکنا رہیں۔

جمعہ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے میران شاہ کا دورہ کیا، آرمی چیف نے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے عمائدین سے ملاقات اور بات چیت بھی کی۔

(جاری ہے)

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر جاری باڑ کی تنصیب سے سرحد پار سے دہشت گردوں کی آمدورفت کم ہوئی اور دہشت گردی کے واقعات بھی بتدریج کم ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ شہری دیسی بارودی سرنگوں کے واقعات کی روک تھام میں محتاط رہیں اور شدت پسندوں کے سہولت کاروں سے بھی چوکنا رہیں۔آرمی چیف نے کہاکہ افغانستان پاکستان کا برادر ہمسایہ ملک ہے اور ہم افغانستان میں امن کے قیام کے خواہاں ہیں، پاکستان میں دیرپا امن افغانستان کے امن سے منسلک ہے جس کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کررہا ہے۔سربراہ پاک فوج نے کہا کہ شدت پسندوں کے ساتھ طاقت کے ذریعے نمٹنا بڑامسئلہ نہیں لیکن جانی نقصان سے بچنے کے لئے فورسز مکمل تحمل کامظاہرہ کرتی ہیں، ہم باہمی تعاو ن سے دہشتگردوں کو مکمل شکست دیں گے، عمائدین کے تجربے سے مستقبل میں کامیابیاں ممکن ہیں،قبائلی مشران نوجوانوں کی رہنمائی کریں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کورکمانڈرپشاوربھی اس موقع پرموجودتھے۔

میرانشاہ شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments