پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ کی میرپورخاص پہنچ کر ایمبولنس نہ ملنے پرحادثے میں جاںبحق ہونے والے افراد کے ورثا سے تعزیت

جو حکمران سندھ کی عوام کو ایمبولنس تک نہیں دے سکتے ان کو حکمرانی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، حلیم عادل شیخ وزیر صحت بلاول زرداری کی پھپھو ہیں شرمناک واقعے کے بعد ان کو استعفیٰ دے دینا چاہیے، کیول اور رمیش بھیل کے ورثا کو مکمل انصاف دلوائیں گے

اتوار ستمبر 19:45

میرپورخاص(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 ستمبر2019ء) پی ٹی آئی سندھ کے صدر و پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ میرپورخاص کے قریب گائوں حمیر درس پہنچے ان کے ہمراہ پی ٹی آئی ایم این اے جئہ پرکاش اکرانی، ایم پی اے دعا بھٹو، پی ٹی آئی سندھ کے رہنما حنید لاکھانی، خاوند بخش جئیجو، عمران قریشی، امین اللہ خان موسیٰ خیل،جہانشیر جونیجو، آفتاب قریشی و دیگر بھی شریگ تھے۔

ایمبولنس نہ ملنے کی وجہ حادثے میں فوت ہونے والے کیول اور رمیش بھیل کے کے ورثا سے اظہار افسوس کرنے کے بعد تفصیلی ملاقات کی۔ کیول کے والد کھیموں بھیل نے حلیم عادل شیخ کو بتایا کہ چار روز سے ہمارا چھوٹا بچہ موہن بیماری کے باعث سول اسپتال میرپورخاص میں داخل کیا گیا تھا علاج نہ ہونے کی وجہ سے وہ فوت ہوگیا جس کو رات دیر گئے اسپتال انتظامیہ سے ایمبولنس مانگی تو انہوں نے دینے سے انکار کر دیا اور دو ہزار روپے مانگے پئسے نہ ہونے کی وجہ سے بچے کی لاش کو تین کلومیٹر تک پیدل کیول اور رمیش ہاتھوں پر اٹھا کر پہنچے جہاں سے چیتن بھیل کی موٹرسائیکل پر تینوں بچے کی لاش لیکر جارہے تھے میرپورخاص کیقریب گاڑی کی ٹکر لگنے سے رمیش اور کیول موقعہ پر جانبحق ہوگئے دوبارہ لاشیں سول اسپتال لائی گئیں جہاں دوبارہ پانچ ہزار لیکر ایمبولنس دی گئی لاش گھر تک بھجوائے گے زخمی چیتن ابھی تک سیریز ہے زیر علاج ہے۔

(جاری ہے)

ہماری کسی نے بھی مدد نہیں کی سندھ میں غریبوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا سندھ بھر میں صحت کی سہولیات نہ ہونے پر وزیر صحت عذرا پیچھوھو اپنے عہدے سے استعیفی دیں۔ سندھ میں اسپتالیں مذبع خانے بن چکی ہیں۔ واقعہ بہت افسوس ناک ہے ورثا سے دلی ہمدردی کرنے پہنچے ہیں۔

پاکستان بیت المال کی جانب سے ورثا کی مالی مدد بھی کریں گے اور کیس لڑنے کے لئے پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم دے رہے ہیں۔ زخمی کا مکمل علاج کروائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا سندھ میں گیارہ سالوں سے پیپلزپارٹی کی حکومت جو عوام کا خون چوس رہی ہے۔ سندھ کی عوام کو کھوکھلے نعروں پر بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ سندھ کی تقسیم کے نام پر سندھ کارڈ استعمال کیا جاتا ہے لیکن سندھ کی عوام کے حقوق پر ڈاکے بند نہیں کئے جاتی ہیں۔

اربوں کا صحت کا بجیٹ ہے لیکن اسپتالوں میں ایمبولنس تک نہیں دی جاتی۔ وزیر اعلیٰ سندھ سے بتائیں کیوں نہیں ایمبولنس دی گئی کہاں جاتا ہے بجیٹ ہم ورثا کو مکمل انصاف دلوائیں گے۔ ایف آئی آر بھی غلط کاٹی گئی ہے جو واقعے کے برعکس ہے۔ واقعہ کی دوسری ایف آئی کاٹی جائے جس میں صحت کے افسران کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے جھوٹے نوٹس لینے سے کچھ نہیں چلے گا۔

غریب عوام کو اب ان کرپٹ حکمرانوں کے رحم کرم پر نہیں چھوڑے گے جلد ظلم کا سورج غروب ہونے والا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی دعا بھٹو پی ٹی آئی رہنمائوں کے ہمراہ اولڈ میرپورخاص تھانے پہنچی جہاں درج شدہ ایف آئی آر کا جائزہ لینے کیبعد ورثا کی فریاد پر واقعے کی دوسری حقیقت پر مبنی ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دی۔

میرپورخاص شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments