کاشتکار گندم کی پچھیتی کاشت دسمبر کے اوائل تک کرسکتے ہیں،محکمہ زراعت

پیر 29 نومبر 2021 17:13

کاشتکار گندم کی پچھیتی کاشت دسمبر کے اوائل تک کرسکتے ہیں،محکمہ زراعت
ملتان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 نومبر2021ء) محکمہ زراعت نے گندم کی پچھیتی کاشت کے لئے سفارشات جاری کر دیں ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق کاشتکار گندم کی پچھیتی کاشت کے لئے منظور شدہ اقسام دلکش21، سبحانی21، ایم ایچ 21، اکبر 19، غازی 19، بھکر سٹار، اناج 2017، زنکول 2016، گولڈ2016، جوہر2016، بورلاگ2016، اجالا2016، آس2011 کی کاشت دسمبر کے اوائل تک کرسکتے ہیں۔

یاد رہے، ملت11 اور فیصل آباد8 اقسام کنگی سے متاثرہ ہیں لہٰذا ان کو کاشت کرنے سے گریز کریں۔ محکمہ زراعت کی طرف سے جاری کردہ سفارشات کے مطابق  کاشتکار یکم سے 10 دسمبر تک 50 سے 55 کلوگرام بیج فی ایکڑ استعمال کریں اور بیج کے اُگاؤ کی شرح 85 فیصد سے ہرگز کم نہیں ہونی چاہیے۔ گندم کی مختلف بیماریوں میں کانگیاری، کرنال بنٹ،گندم کی بلاسٹ اور اکھیڑا وغیرہ زیا د ہ نقصان دہ ہیں جو کہ پیداوار میں نقصان کا باعث بنتی ہیں ان بیماریوں سے بچاؤ کے لئے بیج کو بوائی سے پہلے تھائیو فنیٹ میتھائل بحساب دوتا اڑھائی گرام فی کلو گرام بیج یا امیڈا کلوپرڈ +ٹیبو کونا زول بحساب 4 ملی لٹر فی کلو گرام بیج  لگائیں۔

(جاری ہے)

بہتر ہے کہ بیج کو زہر لگانے کے لئے گھومنے والا ڈرم استعمال کیا جائے اگر یہ میسر نہ ہو تو پلاسٹک کی ایک بوری میں وزن شدہ بیج اور سفارش کردہ زہر ڈال کر بوری کا منہ باندھ کر اوردونوں طرف سے پکڑ کر اچھی طرح ہلائیں تاکہ بیج کے ہردانے کو زہر لگ جائے خیال رہے کہ بوری کو تقریباً آدھا بھرا جائے۔ ترجمان محکمہ زراعت نے مزید کہا کہ  گندم کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے کھیت کا تیاراور ہموار ہونا بہت ضروری ہے۔

وریال کھیتوں میں دو یاتین دفعہ ہل چلائیں اورجہاں کہیں زمین کوہموار کرنا ضروری ہو کراہ یا لیزرلیولرسے زمین کو ہموار کریں۔راؤنی سے پہلے کھیتوں کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں تاکہ کم پانی سے زیادہ رقبے پر راؤنی ہوسکے۔ جب بوائی کا وقت نزدیک آئے تو سورج نکلنے سے پہلے ہل چلائیں اور سہاگہ دیں۔ یہ عمل2یا3 باردوہرانے سے جڑی بوٹیاں تلف ہو جائیں گی اور زمین کی نیچے کی نمی اوپر آجائے گی جو گندم کے اچھے اگاؤ کی ضامن ہوگی۔

راؤنی کے بعد وتر آنے پر زمین کو2یا 3 دن کے لئے کراہ یاسہاگہ چلا کر دبادیں اس سے ڈھیلے وغیرہ نہیں بنتے اسے رمبڑ کہتے ہیں رمبڑ کے بعددوہرا ہل چلا کرسہاگہ دیں اور 8 سے 10 دن تک زمین کو یونہی رہنے دیں تاکہ جڑی بوٹیوں کے بیج اگ آئیں اوربعد ازا ں بوائی کے لئے ہل چلا کر ان کو ختم کر دیں۔ ترجمان محکمہ زراعت نے مزید ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ  وتر کے طریقہ کاشت میں کپاس کی چھڑیاں اور مکئی کے ٹانڈے کاٹنے کے 15سے20 دن قبل کھیت کو پانی دیں تاکہ چھڑیاں کاٹتے وقت زمین وتر حالت میں ہو اور کم سے کم وقت میں تیار کرکے گندم کاشت کی جا سکے۔

چھڑیاں کاٹنے کے فوراً بعد 2 مرتبہ ہل اور ایک مرتبہ روٹاویٹرچلائیں۔ اگر روٹاویٹر میسر نہ ہو تو بھاری سہاگہ دیں۔گندم کے خشک طریقہ کاشت میں سابقہ فصل کی برداشت کے بعد دو مرتبہ عام ہل اور ایک مرتبہ روٹاویٹر یا ڈسک ہیرو  چلائیں۔ بوائی بذریعہ ڈرل کریں اور کھیت کو پانی لگا دیں خیال رہے کہ ڈرل کردہ بیج کی گہرائی ایک انچ سے زیادہ نہ ہو۔گپ چھٹ کا طریقہ میں پچھلی فصل کی برداشت کے بعد 2 مرتبہ عام ہل چلائیں اور بھاری سہاگہ دیں بعد ازاں کھیت کو پانی  لگادیں اورپھر 4 سے 6 گھنٹے تک بھگوئے ہوئے بیج کا چھٹہ دیں۔

متعلقہ عنوان :

ملتان شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments