سرائیکی شاعر شاکر شجاع آبادی کو سائیکل پر اسپتال لے جانے کی ویڈیو وائرل

والد کی حالت خراب ہونے پر حکیم کے پاس لے کر گیا،اتنی آمدنی نہیں کہ والد کو ٹیکسی پر اسپتال لے جائیں۔بیٹے کی گفتگو

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ 27 اکتوبر 2021 11:54

سرائیکی شاعر شاکر شجاع آبادی کو سائیکل پر اسپتال لے جانے کی ویڈیو وائرل
ملتان (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔27اکتوبر 2021ء) معروف سرائیکی شاعر شاکر شجاع آبادی کو سائیکل پر اسپتال لے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔جیو ٹی کی رپورٹ کے مطابق سرائیکی شاعر شجاع آباد کسمبرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہیں موٹرسائیکل پر اسپتال لے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس نے ان کے مداحوں کو اداس کر دیا ہے۔

شاکر شجاع آبادی کے بیٹے کا والد کو موٹرسائیکل پر اسپتال لے جانے کے حوالے سے کہنا ہے کہ والد کی حالت خراب ہونے پر حکیم کے پاس لے کر گیا۔انہوں نے بتایا کہ اتنی آمدنی نہیں کہ والد کو ٹیکسی پر اسپتال لے جائیں۔شاعر کے بیٹے نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی کاغذات میں ہمیں وظیفہ دیا جاتا ہے مگر ملتا نہیں۔
۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ 20 جولائی ۔

2016ء کو اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے جنوبی پنجاب کے سرائیکی زبان کے معروف شاعرمحمدشفیع شاکرشجاع آبادی کیلئے 6لاکھ روپے مالی امداد کی منظوری دی تھی ۔معروف سرائیکی شاعر جگر کے امراض میں مبتلا ہیں اورانہوں نے اپنے اخراجات کیلئے مالی امداد اور علاج معالجے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے درخواست کی تھی، جس پر وزیراعلیٰ نے ان کیلئے مالی امدد کی منظوری دی۔

یہ رقم ایک اکاؤنٹ میں رکھی جائے گی اوراس کی ماہانہ آمدن شاعر محمد شفیع شاکرشجاع آبادی کو ملے گی،جس سے وہ اپنے اخراجات پورے کرسکیں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر شاعرشاکرشجاع آبادی کے علاج کیلئے بھی سپیشل میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دیاگیااورپنجاب حکومت محمد شاکرشجاع آبادی کے علاج معالجے کے تمام اخراجات برداشت کررہی تھی۔ شہبازشریف نے کہا تھا کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے محمد شفیع شاکر شجاع آبادی سرائیکی زبان کے بڑے شاعرہیں۔شاکرشجاع آبادی کی سرائیکی ادب کے فروغ کے حوالے سے خدمات لائق تحسین ہیں ۔شاکر شجاع آبادی جیسے شاعر قومی اثاثہ ہیں۔محمد شفیع شاکر شجاع آبادی کا تعلق بستی خیر آبادمحلہ غریب آبادراجہ رام تحصیل شجاع آباد ضلع ملتان سے ہے ۔

ملتان شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments