جنوبی پنجاب علیحدہ صوبہ کے قیام ، شاہ محمود قریشی نے شہباز شریف اور بلاول کو لکھا گیا خط میڈیا کو جاری کر دیا

جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ بنانا علاقے کے لوگوں کی دیرینہ خواہش اور پی ٹی آئی کے منشور کا کلیدی جزو ہے، خواہش کو پورا کرنے میں بنیادی رکاوٹ ایک آئینی ترمیم ہے ، اپوزیشن رہنما آئینی ترمیم کیلئے تحریک انصاف کا ساتھ دیں ، خط کا متن

ہفتہ 22 جنوری 2022 17:34

جنوبی پنجاب علیحدہ صوبہ کے قیام ، شاہ محمود قریشی نے شہباز شریف اور بلاول کو لکھا گیا خط میڈیا کو جاری کر دیا
ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 جنوری2022ء) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جنوبی پنجاب علیحدہ صوبہ کے قیام کو عملی جامہ پہنانے اور درکار آئینی ترامیم کے لیے پارلیمانی لیڈر مسلم لیگ ن میاں شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر بلاول بھٹو کو لکھے گئے خطوط میڈیا کو جاری کردئیے ۔ملتان میں پریس کانفرنس کے بعدوزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کو عملی جامہ پہنانے اور درکار آئینی ترمیم کیلئے پارلیمانی رہنماؤں کو لکھے گئے خطوط میڈیا کو جاری کردئیے۔

وزیر خارجہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری کو خطوط ارسال کیے گئے۔خطوط کے متن میں، وزیر خارجہ اور وائیس چیرمین پاکستان تحریک انصاف شاہ محمود قریشی نے پارلیمان کی تمام بڑی جماعتوں کو جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے قانون سازی کیلئے درکار تعاون کی درخواست کی ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میں یہ خط، ملتان، ڈی جی خان اور بہاولپور ڈویژن پر مشتمل جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ بنانے کے حوالے سے تحریر کر رہا ہوں، پیر17 جنوری 2022 کو پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیٹر کی طرف سے سینیٹ میں ایک پرائیویٹ ممبر بل پیش کیا گیا اور پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے اس کی حمایت کی۔جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ بنانا اس علاقے کے لوگوں کی دیرینہ خواہش اور پی ٹی آئی کے منشور کا کلیدی جزو ہے تاہم 35 ملین لوگوں کی اس خواہش کو پورا کرنے میں بنیادی رکاوٹ، ایک آئینی ترمیم ہے جس کے لیے پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت درکار ہے،اس رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دیں اور 35 ملین لوگوں کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اس اقدام کو حقیقت بنانے میں تاریخی کردار ادا کریں،آئینی ترمیم کے لیے مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود ہم نے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق جنوبی پنجاب کے عوام کی آسانی اور ترقی کیلئے کئی اہم عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔

ملتان اور بہاولپور میں دو الگ الگ سیکرٹریٹ کا قیام اور مختلف سطحوں پر خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف سرکاری محکموں میں انتظامی اختیارات کی فراہمی، جنوبی پنجاب کی فعالیت کے لیے تشکیل دی گئی اسٹیئرنگ کمیٹی نے آبادی کے تناسب سے جنوبی پنجاب کیلئے صوبائی ملازمتوں کے لیے 32 فیصد کوٹہ کی منظوری دی - جنوبی پنجاب ڈویژنوں کیلئے 35 فیصد ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا۔

.رولًز آف بزنس میں ترمیم تاہم آئینی ترمیم کے ذریعے علیحدہ صوبے کا قیام بامقصد اور دیرپا پیشرفت کی راہ ہموار کرے گا، جس کے لیے تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو عزم کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا،جنوبی پنجاب کا الگ صوبہ بنانے کے لیے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین کی حیثیت سے میں آئینی ترمیمی بل کی تشکیل پر اتفاق رائے تک پہنچنے اور آگے بڑھنے کے لیے، اپنی دعوت کا اعادہ کرتا ہوں۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ براہ کرم اپنی پارٹی کے دو اراکین کو پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی میں شامل کرنے کے لیے نامزد کریں جسے ترمیمی بل کا مسودہ تیار کرنے کا کام سونپا جائے گا.میں قومی اہمیت کے اس معاملے میں آپ کے تعاون کا منتظر ہوں۔

ملتان شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments